تیرہ احمدی طالب علم سکول سے خارج

فائل فوٹو، ایک کلاس روم کا منظر
Image caption پاکستان میں احمدیوں پر ذیادتیوں کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔

پاکستان کے صوبۂ پنجاب کے ضلع حافظ آباد میں مبینہ طور پر احمدی مسلک سے تعلق کی بنیاد پر تیرہ طلبہ و طالبات اور ایک استانی کو سکول سے نکال دیا گیا ہے۔

جماعت احمدیہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ تمام ان کی جماعت کے رکن تھے اور انہیں محض احمدی ہونے کی بنیاد پر سکول سے خارج کیا گیا۔

لاہور سے نامہ نگار علی سلمان کےمطابق حافظ آباد کے نواحی گاؤں ڈاراں والی کے دو نجی سکولوں سے تیرہ احمدی بچوں کے نام خارج کیے گئے ہیں۔

یہ ابتدائی جماعت سے لے کر بی اے تک کے طالب علم ہیں جب کہ بچوں اور ان کے والدین کا کہنا ہے کہ انہیں محض احمدی ہونے کی وجہ سے سکول سے نکالا گیا۔

مقامی نجی سکول میں بی اے کی طالبہ فروا اعجاز کےمطابق مقامی سکول اور کالج کے استاد نے انہیں گھر پرٹیوشن پڑھانا بھی بند کر دیا ہے جس کی وجہ سے وہ امتحانات میں فیل ہوگئی ہیں۔

Image caption گزشتہ سال اٹھائیس مئی کو لاہور کی احمدی عبادت گاہوں پر فائرنگ کر کے چھیاسی افراد کو ہلاک کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ سکول سے نکالے جانے والے بچے اپنی غربت کی وجہ سے دوسرے شہر جا کر تعلیم حاصل نہیں کر سکتے اور اب وہ فارغ رہتے ہیں۔

جماعت احمدیہ کے ترجمان سلیم الدین کا کہنا ہے کہ یہ تمام بچے اور نوکری سے برطرف ہونے والی ایک استانی گاؤں کے پانچ احمدی گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے اور گاؤں کے مکینوں نے ان کا سوشل بائیکاٹ کر رکھا تھا۔

سکول سے نکالی جانے والی دو بچیوں کے والد خلیل احمد ناصرنے کہا کہ گاؤں کی دیواروں پر جگہ جگہ احمدیوں کے خلاف نعرے درج ہیں جن میں ان سے لین دین اور بول چال بند کرنے کا کہا گیا ہے اور ان کے واجب القتل ہونے کے فتوے دیے گئے ہیں۔

خلیل احمد ناصر کا کہنا ہے کہ وہ محکمۂ صحت میں ملازم تھے لیکن انہیں محض احمدی ہونے کی وجہ سے جبری ریٹائر کر دیا گیا ہے اور اب انہیں مالی مشکلات کا بھی سامنا ہے۔

نجی سکول کے مالک اور پرنسپل ماسٹر یاسر نے بچوں کو سکول سے نکالے جانے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا البتہ انہوں نے یہ ضرور بتایا کہ محلے کے احمدی لوگوں کو سوشل بائیکاٹ کا سامنا ہے۔

جماعت احمدیہ کے ترجمان سلیم الدین کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے بھی فیصل آباد سے میڈیکل کے تیئس طلبہ، ٹیکسٹائل یونیورسٹی سے ایک طالبہ اور چکوال سے نو بچوں کو محض احمدی ہونے کی وجہ سے تعلیمی اداروں سے نکالا جا چکا ہے۔

اس کے علاوہ لیئہ میں پانچ طلبہ کو سکول سےخارج کر کے ان پر توہین رسالت کے مقدمات بنائے گئے جبکہ شیخوپورہ میں سکول ٹیچر کو قتل اور چکوال میں ایک پروفیسر پر قاتلانہ حملہ ہو چکا ہے۔

واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں پارلیمان نے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا تھا اور احمدیوں کا کہنا ہے کہ اس کے بعد انہیں امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

جماعت احمدیہ پاکستان کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ننانوے احمدیوں کو محض عقیدے کے بنیاد پر قتل کر دیا گیا جو کہ ایک سال میں ہلاکتوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

اسی بارے میں