’ایرا میں مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی‘

Image caption زلزلے میں ستر ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے جب کہ وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی تھی

آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے دو ہزار پانچ میں زلزلے کے بعد بحالی اور تعمیر نو کے لیے بننے والے ادارے ایرا کے بجٹ میں اربوں روپے کی خورد برد اور مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی ہے۔

رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ بدعنوانی اور بے ضابطگی کے سلسلے میں جن افراد کی نشاندہی کی گئی ہے ان سے رقم واپس لی جائے اور مالی ضبط قائم کیا جائے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور صوبۂ خیبر پختونخوا میں آٹھ اکتوبر سنہ دو ہزار پانچ میں زلزلہ آیا تھا جس میں ستر ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

پاکستان کی حکومت نے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بحالی کے لیے ’ایرا‘ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا جس کے بجٹ میں یہ بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں۔

پاکستان میں اتوار کو اس زلزلے کی چھٹی برسی منائی جا رہی ہے اور ایسے موقع پر رواں سال جاری کردہ آڈٹ رپورٹ میں جس کی کاپی بی بی سی کے پاس دستیاب ہے وسیع پیمانے پر مالی بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دیہی تعمیر نو سکیم کے تحت چھبیس ہزار سات سو ستاون ایسے افراد کو دوسری اور تیسری قسط کے مد میں فی شخص سوا لاکھ روپے ادا کیے گئے جنہوں نے مکان تعمیر ہی نہیں کیا یا پھر منظور کردہ ڈیزائن کے مطابق مکان نہیں بنایا۔

آڈیٹر جنرل کے مطابق بنیاد ڈالنے کے بعد مکان تعمیر نہ کرنے والے افراد کی تعداد، جنہیں یہ رقم ’معائنہ‘ کیے بغیر ادا کر دی گئی، بائیس ہزار سے زیادہ تھی۔

زلزلے میں پینتیس لاکھ کے قریب مکانات منہدم ہوئے تھے لیکن رپورٹ کے مطابق چھ سال میں صرف چار لاکھ تریسٹھ ہزار مکان تعمیر کرنے کے لیے فنڈ دیے گئے، جس میں سے بھی چار لاکھ انتیس ہزار مکانات کی تعمیر مکمل ہو سکی جبکہ سات ہزار دو سو ساٹھ مکان زیر تعمیر ہیں اور چھبیس ہزار سات سو ستاون مکانات کی تعمیر کا کام ہی شروع نہیں کیا جا سکا۔

آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’تین ارب چونتیس کروڑ چھیالیس لاکھ روپے سے زیادہ کا قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور ادارے کی اہلیت چھپانے کی خاطر یہ رقم معاف کردی گئی۔‘

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’نیسپاک‘ کو ستر کروڑ روپے کے قریب مختلف مد میں غیر قانونی طور پر ادا کیے گئے۔ جبکہ اٹھائیس ہزار تین سو سے زیادہ شہری متاثرین کو منظور شدہ نقشے کے مطابق گھر نہ بنانے کے باوجود پونے دو لاکھ فی شخص کےحساب سے جو چار ارب پچانوے کروڑ اٹھاون لاکھ روپے سے زیادہ رقم ادا کی گئی وہ خلاف ضابطہ ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ باغ اور راولا کوٹ میں اٹھارہ سو باسٹھ غیر حقدار افراد، جن کے فارم مسترد ہوچکے تھے، انہیں پچہتر ہزار فی شخص کے حساب سے تیرہ کروڑ چھیانوے لاکھ روپے نقد رقم غیر قانونی طور پر جاری کی گئی۔ ’نادرا‘ کا ڈیٹا بیس ہوتے ہوئے بھی دوبارہ وہی ڈیٹا جمع کرنے کا ٹھیکہ بھی دو فرموں کو دے دیا گیا۔

آڈیٹر جنرل نے بتایا ہے کہ ایک پروگرام میں فوج کی خدمات حاصل کرنے پر اخراجات میں ایک کروڑ اٹھارہ لاکھ روپے کے قریب اضافی رقم ادا کردی گئی جو فوج سے واپس لی جائے۔ رپورٹ کے مطابق بعد میں آڈٹ حکام کو بتایا گیا کہ فوج نے متعلقہ رقم واپس کر دی ہے لیکن اس کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

ایک اور پیراگرف میں آڈٹ حکام نے بتایا ہے کہ آرمی انجینیئرز کو چوبیس کروڑ اکتیس لاکھ روپے انسپیکشن کے لیے ادا کیے گئے اور اس میں ایک کروڑ روپے اضافی تھے جو فوج سے واپس لیے جانے چاہیے۔ ان کے مطابق دو ہزار چھ میں یہ رقم ادا کی گئی اور بے ضابطگی کی نشاندہی سنہ دو ہزار آٹھ میں کی گئی لیکن تاحال رقم واپس نہیں ہوئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک میڈیا مشاورتی فرم کو تین کروڑ روپے سے زیادہ خلاف قاعدہ رقم ادا کی گئی اور اس فرم نے یہ ٹھیکہ کسی اور کو دے دیا۔ حکام کے مطابق زلزلے کی تعمیر نو سے متعلق ادارے نے اس ٹھیکے کی دستاویزات فراہم کرنے سے بھی انکار کر دیا۔

آڈیٹر جنرل نے بتایا ہے کہ زلزلے کی تعمیر نو سے متعلق ادارے کے ملازمین کو تنخواہ، الاؤنس، رہائش اور موبائل فون سمیت دیگر مدوں میں ساڑھے چار کروڑ روپے سے زیادہ رقم غیر قانونی طور پر دی گئی ہے۔

آڈٹ رپورٹ میں اس ادارے کے صوبائی دفاتر میں بھی کروڑوں روپے کی بدعنوانی، بے ضابطگیوں اور خلاف قاعدہ ادائیگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

اسی بارے میں