نشاندہی سپریم کورٹ کی اقدامات حکومت کے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کراچی میں بدامنی پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بارے میں کچھ قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ نشاندہی سپریم کورٹ کا کام تھا، اقدامات انتظامیہ یعنی حکومت کا کام ہے۔

کچھ قانونی ماہرین کہتے ہیں چونکہ سپریم کورٹ نے اپنے مشاہدات کی نگرانی کا بندوبست سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم کمیٹی کے ذریعے خود ہی کر دیا ہے لہٰذا بہتری ضرور آئے گی۔

معروف قانون داں ڈاکٹر فروغ نسیم کا کہنا ہے کہ عدالت میں کوئی مقدمہ زیر سماعت نہیں تھا۔ اس قسم کی عدالتی کارروائی کو ’انکوزے ٹو ریئل پروسیڈنگز‘ کہتے ہیں یعنی عدالت نے فیصلہ، رہنمائی اور ہدایت دے دی۔ عدالت نے حتمی طور پر کسی کو موردِ الزام ٹھہرایا نہ عدالت کے پاس ایسے ثبوت تھے کہ کسی کو موردِ الزام ٹھہرایا جا سکتا ہو۔

سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس طارق محمود کہتے ہیں کہ فیصلے پر عمل درآمد کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔ مقدمہ چلانا ہے تو نچلی عدالت میں چلے گا، استغاثہ گواہ، ثبوت اور شواہد پیش کرے گا۔ پھر عدالتیں قوانین کے تحت فیصلے کریں گی جو ارکان پارلیمان یا سیاستدانوں نے بنائے ہیں۔

’سپریم کورٹ ہر مسئلے کا حل نہیں۔ اگر حکام اپنا کام نہیں کریں گے تو سپریم کورٹ کچھ نہیں کر سکتی۔ سارا کام عدالتوں کو ہی کرنا ہے تو سیاستدان کیا کر رہے ہیں۔ پھر ان کو اور پارلیمان کو گھر بھیج دیں۔ سپریم کورٹ ہی ٹیک اوور کر لے‘۔

جسٹس طارق محمود نے کہا کہ یہ بھی حکومت اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث سیاسی جماعتوں کے خلاف آئین کے آرٹیکل سترہ کے تحت ریفرنس بھیجے لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے سے وہ قانوناً پابند نہیں ہیں کہ ریفرینس بھیجا ہی جائے۔

جسٹس طارق محمود کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ اس وقت تک کچھ نہیں کر سکتی جب تک یہ ادارے ریفرنس نہ بھیجیں۔

ڈاکٹر فروغ نسیم نے بھی کہا کہ سپریم کورٹ نے کسی کو پابند نہیں کیا کہ ریفرنس بھیجیں۔’ کوئی بھی آدمی کوئی بھی سیاسی جماعت بنا سکتا ہے مگر کوئی بھی جماعت ریاست کے خلاف کام نہیں کر سکتی۔ اگر کر رہی ہے تو حکومت سپریم کورٹ میں ریفرنس بھیجے‘۔

فروغ نسیم نے کہا کہ اس کی نظیر موجود ہے جب نیشنل عوامی پارٹی (نیب) کے خلاف ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے ریفرنس عدالت میں بھیجا اور سپریم کورٹ نے پابندی عائد کر دی۔

لیکن پھر سپریم کورٹ نے اب تک جو مقدمات چلائے اور سیاسی حکومت کے خلاف جو فیصلے دیے وہ بھی تو قانون کی پابندی نہ کرنے کی بنیاد پر دیے۔ تو کراچی کی بدامنی کے معاملے میں صرف نشاندہی کیوں؟ کارروائی کا حکم کیوں نہیں؟ اس سوال کے جواب میں جسٹس طارق محمود کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ ایسا کوئی حکم جاری نہیں کر سکتی۔ کیا یہ حکم دے کہ جو نامعلوم قاتل ہیں آج سے وہ قتل نہیں کریں گے، بھتہ وصول نہیں کریں گے؟

’جو لوگ ووٹ لے کر آئے ہیں کیا انہوں نے لوگوں سے اس وعدے کی بنیاد پر ووٹ لیے کہ ہم کچھ نہیں کریں گے، قتل ہوتے رہیں پولیس سے نہیں پوچھیں گے؟

سندھ پولیس کے سربراہ کی حیثیت سے آئی جی سندھ واجد درانی نے عدالت میں تسلیم کیا تھا کہ بھتہ خوری اور قتل و غارت میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی اس لئے نہیں ہو پاتی کہ خود پولیس میں تیس سے چالیس فیصد بھرتی سیاسی وابستگی کی بنیاد پر ہوئی ہے۔

تو اب ملک کی سب سے بڑی عدالت میں کھڑے پولیس کے سربراہ کے اس اعترافی بیان کے بعد بھی عدالت کو کارروائی کرنے کے لیے کچھ اور کرنا ہوگا۔ جسٹس طارق محمود کہتے ہیں کہ بھرتیوں کا عدالت کو نہیں پتہ کہ کب کس نے کس کو مقرر کیا، ’جن کو ہم نے وزارتیں، صدارتیں دی ہیں یہ کام ان کا ہے۔ یہ عدالتی مینڈیٹ میں نہیں آتا‘۔

فروغ نسیم کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی کارروائی تو پہلا قدم ہے۔ اگر حکومت نے اب سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل نہیں کیا تو اس کا دوسرا قدم بھی اٹھے گا لیکن اس کی نوبت اس لیے نہیں آئے گی کہ سپریم کورٹ کی ہدایات پر سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سارے عمل کی نگرانی کرتے رہیں گے اور ابھی سے بہتری آ چلی ہے۔ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ معاملے کو منطقی انجام تک پہنچا سکتے ہیں۔

اسی بارے میں