تاثیر کے قاتل کی سزا کے خلاف احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گورنر سلمان تاثیر کے سرکاری محافظ ممتاز قادری نے انھیں فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا

صوبۂ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کو دی جانے والی سزا کے خلاف وفاقی دارالحکومت اسلام آْباد ، کراچی اور لاہور سمیت پنجاب کے دیگر شہروں میں احتجاج کیا گیا اور بعض شہروں میں ریلیاں بھی نکالی گئیں۔

احتجاج سے پہلے صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں سنی تحریک کے مرکزی رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا ہے۔

تاثیر قتل کیس، ملزم ممتاز قادری کو سزائے موت

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق شہر میں رات کو اس وقت صورتحال بگڑ گئی جب سمن آباد فیڈرل بی ایریا میں ظہیر قریشی نامی نوجوان فائرنگ میں ہلاک ہوگیا۔

سنی تحریک کا کہنا ہے کہ ظہیر ان کا کارکن تھا اور رات کو ہڑتال کی حمایت میں پمفلٹ تقسیم کر رہا تھا تو اس کو فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا۔

اس واقعے کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں چھ سے زائد بسوں اور دیگر گاڑیوں کو نذر آتش کردیا گیا۔

ہڑتال کے اعلان کے جواب میں صبح کو شہر کے وسطی علاقوں میں کاروبار بند رہا جو دوپہر کے بعد کھلنا شروع ہوگیا تھا۔

دوسری جانب رینجرز نے سنی تحریک کے مرکز کا محاصرہ کیا ہے۔

تنظیم کے مرکزی رہنماء شکیل قادری نے بتایا کہ سنی تحریک کے مرکزی رہنماء شاہد غوری، شہزاد قادری، مبین قادری سمیت پندرہ کارکنوں کو دفتر سے گرفتار کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ نشتر پارک بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے رہنما عباس قادری کے گھر پر بھی چھاپہ مارا گیا ہے، جس دوران عباس قادری کے بھائی الیاس قادری اور بیٹے علی رضا قادری کو حراست میں لیا گیا ہے۔

شکیل قادری کے مطابق سنی اتحاد کونسل میں بارہ کے قریب جماعتیں شامل ہیں مگر کارروائی صرف سنی تحریک کے خلاف کی جا رہی ہے اور یہ بات ان کی سمجھ سے بالاتر ہے۔

شہر میں گاڑیاں نذر آتش ہونے کے واقعات پر ان کا کہنا تھا کہ سنی تحریک کا احتجاج ہمیشہ پرامن رہا ہے مگر اسے پرتشدد بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ شہر میں دفعہ ایک سو چوالیس کے تحت جلسے جلوسوں پر پابندی ہے مگر لیاری امن کمیٹی، جماعت اسلامی اور کالعدم سپاہ صحابہ نے مظاہرے کیے تھے۔

دوسری جانب پنجاب میں صوبائی دارالحکومت لاہور میں مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے ہوئے ۔ سنی اتحاد کونسل کی اپیل پر شہر کے کچھ کاروباری مراکز بھی بند رہے ۔

لاہور میں سنی اتحاد کونسل نے داتا دربار کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا جبکہ جماعت اسلامی نے اپنے مرکز منصورہ کے باہر احتجاج کیا۔

فیصل آباد،گوجرانوالہ اور ملتان سمیت پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی ممتاز قادری کی سزا کے خلاف احتجاج ہوا ۔گوجرانوالہ اور ملتان میں ریلیاں بھی نکالیں گئیں۔

ممتاز قادری کو عدالت کی طرف سے دی جانے والی سزا کے خلاف راولپنڈی اور اسلام آباد میں بھی محتلف مذہبی جماعتوں کی طرف سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

مظاہرین نے مختلف بینرز اور کتبے اُٹھا رکھے تھے جن پر ممتاز قادری کے حق میں نعرے درج تھا۔ راولپنڈی میں مختلف علاقوں میں پچاس سے زائد ریلیاں نکالی گئیں جن میں لوگوں کی ایک خاصی بری تعداد میں شرکت کی۔

مظاہرین میں مذہبی جماعتوں کے علاوہ وکلاء کی ایک بڑی تعداد بھی شریک تھی اور ان مظاہرین کا کہنا تھا کہ ممتاز قادری کو موت کی سزا دینا انسداد دہشت گردی کے دائرہ اختیار میں نہیں تھا کیونکہ ممتاز قادری پر انسداد دہشت گردی کے الزامات ثابت نہیں ہوئے تھے۔

اسی بارے میں