کوئٹہ: ایڈیشنل سکریٹری خوراک ہلاک

Image caption ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والے آباد کاروں پر زیادہ ترحملوں کی ذمہ داری بلوچ مزاحمت کار قبول کرتے رہے ہیں۔

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایڈیشنل سکریٹری خوراک ہلاک جب کہ ان کا بیٹا زخمی ہو گیا ہے۔

پولیس نے واقعہ کو ٹارگٹ کلنگ قرار دیا ہے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق کوئٹہ کی کاسی روڈ پر جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب نامعلوم مسلح افراد نے حکومتِ بلوچستان کے ایڈیشنل سکریٹری خوراک محمد ادریس کی گاڑی پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں محمد ادریس اور ان کا بیٹا زخمی ہوگیا۔

دونوں کو فوری طور پر سول ہپستال کوئٹہ پہنچایا گیا لیکن محمد ادریس زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

واقعہ کے بعد ملزمان موٹرسائیکل پر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ گوالمنڈی پولیس تھانے نے نامعلوم افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔

ابھی تک کسی تنظیم نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

اس سلسلے میں جب کیپٹل سٹی پولیس آفیسر حسن محبوب سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس واقعے کو ٹارگٹ کلنگ قرار دیا اور کہا کہ ہلاک ہونے والے محمد ادریس کا تعلق صوبہ پنجاب سے تھا۔

خیال رہے کہ کوئٹہ میں کافی عرصے بعد کسی آباد کار کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

اس سے قبل ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والے آباد کاروں پر زیادہ ترحملوں کی ذمہ داری بلوچ مزاحمت کاروں نے قبول کی ہے۔

اسی بارے میں