کرم ایجنسی: تین سکاؤٹس اہلکار اغوا

فائل فوٹو
Image caption مقامی انتظامیہ نے ایک جرگے کے ذریعے شدت پسندوں سے رابطہ کرنے کی کوشش شروع کی ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے کُرم ایجنسی سے نامعلوم شدت پسندوں نے ٹل سکاؤٹس فورس کے تین اہلکاروں کو اغواء کرلیا ہے جبکہ کُرم ایجنسی میں امن امان برقرار رکھنے کے لیے سنّی اور شیعہ عمائدین کا ایک جرگہ ہوا ہے۔

کُرم ایجنسی میں ایک اعلی اہلکار نے بتایا کہ کہ ضلع ہنگو کے تحصیل ٹل سے ٹل سکاؤٹس فورس کے تین اہلکار ایک پرائیوٹ گاڑی میں کُرم ایجنسی کے علاقے علی زئی جا رہے تھے کہ ٹل اور کُرم ایجنسی کے درمیانی علاقے چپاری چیک پوسٹ کے قریب سے نامعلوم شدت پسندوں نے اغواء کر لیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مرکزی شاہراہ پر نامعلوم مسلح نقاب پوشوں نے سکاؤٹس اہلکاروں کو گاڑی سے اتارا اور کسی نامعلوم جگہ لے گئے۔

اس واقعے کے بعد کُرم ایجنسی کے مقامی انتظامیہ نے ایک جرگے کے ذریعے شدت پسندوں سے رابطہ کرنے کی کوشش شروع کی ہے لیکن ابھی تک کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔

نامہ نگار دلاورخان وزیر کے مطابق اب تک کسی نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے البتہ عموماً ایسے واقعات کی ذمہ داری طالبان شدت پسند قبول کرتے ہیں۔

دوسری طرف گزشتہ روز سے کُرم ایجنسی میں ایک بار پھرسُنی اور شیعہ مسلک کے لوگوں نے امن معاہدے پر عمل درآمد شروع کیا ہے۔

امن معاہدے کے مطابق اہل تشیع اور اہل سُنت شدت پسندوں کے خلاف مشترکہ کاروائی پر متّفق ہوگئے ہیں اور ایک ہفتے کے اندر تمام بند راستے کھول دیے جائیں گے اور علاقے سے بے دخل خاندانوں کو دوبارہ آباد کرایا جائے گا۔

جرگے کے فیصلے کے مطابق شاہراہوں کی حفاظت سکیورٹی فورسز کے حوالے کی جائے گی اور علاقے میں اسلحے کی نمائش پر بھی پابندی ہوگی۔

بنوں پولیس کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز نامعلوم افراد نے بنوں شہر پر کئی راکٹ داغے جو شہر کے مختلف علاقوں میں گرے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک راکٹ ڈی پی او کے گھر میں گرا تھا جس کے نتیجہ میں ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوگیا تھا۔

اسی بارے میں