’صدر کے پاس ایسی کیا گیدڑ سنگھی ہے !‘

Image caption ’صدر کے پاس ایسی کیا گیدڑ سنگھی ہے‘۔

گزشتہ دنوں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے صحافیوں سے ایک ملاقات میں کہا کہ انہوں نے صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کو بتادیا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ ہو یا مسلم لیگ (ق) وہ حکومت چھوڑتے ہیں یا واپس آتے ہیں ان سے انہیں کوئی غرض نہیں اور یہ کام صدر خود سنبھالیں۔

اگر دیکھا جائے تو ان دونوں جماعتوں سے سیاسی جوڑ توڑ پہلے روز سے صدر خود ہی کرتے رہے ہیں اور وزیراعظم دونوں جماعتوں کی حکومت سے علٰیحدگی کی حالیہ دھمکیوں کے بعد بھی کافی مطمئن نظر آئے۔

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے چند روز قبل بیان دیا کہ اگر مسلم لیگ (ق) حکومت سے علٰیحدہ ہوجائے تو وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد ظاہر کر کے تبدیلی لائی جاسکتی ہے اور تبدیلی کی صورت میں وزیراعظم مسلم لیگ (ن) کا نہیں ہوگا۔

لیکن کچھ تجزیہ کاروں نے میاں صاحب کے اس بیان پر کہا ’بہت دیر کردی مہربان آتے آتے‘۔ ایسے میں صدر آصف علی زرداری نے راتوں رات متحدہ قومی موومنٹ اور مسلم لیگ (ق) کو راضی کرلیا اور وہ حکومت کا حصہ بنے۔

مسلم لیگ (ن) نے بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی جلوس نکالنے کا اعلان کیا اور جب حکومت نے فوری اقدامات کر کے لوڈشیڈنگ کی صورتحال بہتر کرلی تو مسلم لیگ (ن) نے حکومت ہٹانے تک اپنا احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کردیا۔

مسلم لیگ (ن) نے گزشتہ ہفتے ایوان صدر کے باہر دھرنا دیا اور صدر آصف علی زرداری کے خلاف بھرپور انداز میں تنقید کی اور کوئی لحاظ نہیں رکھا۔ اس دھرنے میں مسلم لیگ (ق) کے ہم خیال گروپ کے علاوہ آفتاب شیرپاؤ اور جمیعت علماء اسلام (ف) کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔

لیکن اگلے ہی روز مولانا فضل الرحمٰن نے ایوان صدر میں آصف علی زرداری سے ملاقات کی۔ پتہ نہیں اس میں کیا بات ہوئی لیکن بظاہر صدر صاحب یہ تاثر دینے میں کامیاب رہے کہ مولانا کہیں نہیں جا رہے۔

ایسے میں مسلم لیگ (ن) بظاہر ایک بار پھر تنہائی کا شکار نظر آئی۔ لیکن صدر آصف علی زرداری کے خلاف جو میاں نواز شریف سے لے کر تمام سرکردہ رہنماوں نے تیز و تند بیانات کا سلسلہ شروع کیا، اس کا بھرپور جواب انہیں متحدہ قومی موومنٹ کے خود ساختہ جلاوطن رہنماء الطاف حسین نے دیا۔

الطاف حسین نے جہاں میاں نواز شریف کو نشانہ بنایا وہاں حال ہی میں حمزہ شہباز کی جانب سے بیگم کو طلاق دینے اور انہیں پولیس کی جانب سے گرفتار کرنے کا معاملہ بھی خوب اچھالا اور کہا کہ جو اپنی بہو بیٹیوں کو انصاف نہیں دے سکتے وہ قوم کو کیا انصاف دلائیں گے۔

ان کے اس بیان کے بعد صحافتی حلقوں میں تجسس پایا جاتا ہے اور ہر کوئی یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہے کہ آخر صدر آصف علی زرداری کے پاس ایسی کیا گیدڑ سنگھی ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ ضرورت پڑنے پر ان کی مدد کو آجاتی ہے۔ حالانکہ ’این آر او‘ کے خلاف سپریم کورٹ نے جب فیصلہ دیا تھا تو الطاف حسین نے صدر کے خلاف اس وقت خفیہ فرشتوں کے ڈرامے میں مرکزی کردار ادا کرتے ہوئے صدر کو حد سے زیادہ برا بھلا بھی کہا تھا۔

Image caption ایم کیو ایم صدر آصف علی زرداری کی ’اصولی حمایت‘ سے دستبردار نہیں ہوتی۔

لیکن اس کے بعد ذوالفقار مرزا کے ایم کیو ایم کے خلاف سنگین الزامات ہوں یا اس سے بھی کٹھن لمحات ایم کیو ایم صدر آصف علی زرداری کی ’اصولی حمایت‘ سے دستبردار نہیں ہوتی۔

بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم حقیقی کے رہنماء آفاق احمد کی رہائی کا کارڈ تو پہلے ہی حکومت کے پاس تھا لیکن سپریم کورٹ کے کراچی کی صورتحال کے بارے میں فیصلے نے صدر صاحب کو ترپ کا ایک بڑا پتہ تھما دیا ہے۔

ان کے بقول ایم کیو ایم کی جان اب ایوان صدر کے طوطے میں قید ہے کیونکہ عدالت اعظمیٰ نے کراچی میں قیام امن، بھتہ خوری، تشدد ختم کرنے اور نئی حلقہ بندیاں کرنے کی جو ہدایات جاری کی ہیں ان پر عملدرآمد سے متحدہ قومی موومنٹ کا سیاسی مستقبل وابستہ ہے۔

کچھ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ سنہ دو ہزار دو میں جنرل پرویز مشرف کے تعاون سے جس طرح کراچی کی حلقہ بندیاں متحدہ نے اپنی مرضی سے کروائی تھیں وہ اگر تبدیل ہوتی ہیں تو کم از کم چھ قومی اسمبلی کی سیٹیں اور کراچی کی نظامت سے شاید انہیں ہاتھ دھونا پڑے۔ حالانکہ ایم کیو ایم اس تاثر کو رد کرتی ہے اور ان کا دعویٰ رہا ہے کہ کراچی میں انہیں بھرپور عوامی تائید حاصل ہے !

بعض مبصرین تو کہتے ہیں کہ کراچی میں از سر نو حلقہ بندیاں کرنے پر تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے اور ان کا نکتہ نظر متحدہ کے مؤقف سے مختلف ہے۔ اب عدالتی حکم کے تحت حلقہ بندیاں لازمی طور پر تبدیل ہونی ہیں اور وہ ایسا موقع ہوسکتا ہے جو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو ایک بار پھر ایک ہی چھتری تلے کھڑا کر سکتا ہے اور یہ موقع آئندہ سال مارچ کے سینیٹ الیکشن کے بعد ہی آسکتا ہے۔

اسی بارے میں