اسامہ کمیشن: ڈی جی ملٹری انٹیلیجنس طلب

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption تحقیقاتی کمیشن اسامہ بن لادن کی بیویوں اور بچوں کے تفصیلی انٹرویو کرچکا ہے

پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں دو مئی کو امریکی آپریشن میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کی تفتیش کرنے والے کمیشن نے بدھ کو ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس اور صوبہ خیبر پختونخوا کے آئی جی پولیس کو بیان قلمبند کرانے کے لیے طلب کر لیا ہے۔

سپریم کورٹ کے سابق جج جاوید اقبال کی سربراہی میں قائم چار رکنی کمیشن نے منگل کو اسلام آباد میں صوبہ خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری، انٹیلی جنس بیورو اور فیڈرل اِنویسٹیگیشن ایجنسی کے قائم مقام سربراہ کے تفصیلی انٹرویو اور بیانات قلمبند کیے۔

رواں سال بائیس جون کو قائم ہونے والے اس کمیشن کے دیگر اراکین میں سابق انسپکٹر جنرل عباس خان، سابق سفیراشرف جہانگیر قاضی اور لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) ندیم احمد شامل ہیں۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجا مہر کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس کمیشن کے جو ’ٹرم آف ریفرنس‘ مقرر کیے تھے اس کے تحت کمیشن اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی اور دو مئی کو امریکی آپریشن کے متعلق حقائق کا پتہ چلائے گا۔

کمیشن سکیورٹی کی ناکامی کا بھی تعین کرے گا اور حکومت کو مربوط تجاویز پیش کرے گا۔

تحقیقاتی کمیشن اسامہ بن لادن کی بیویوں اور بچوں کے علاوہ آئی ایس آئی کے سربراہ کے تفصیلی انٹرویو کرچکا ہے۔

واضح رہے کہ تحقیقاتی کمیشن نے اسامہ کے کمپاؤنڈ کی جاسوسی کرنے اور امریکی حکام کی مدد کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی تھی۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی پر الزام ہے کہ انہوں نے امریکی خفیہ ادارے ’سی آئی اے‘ کے مخبر کی حیثیت میں ایک جعلی پولیو مہم کے دوران اسامہ بن لادن کی رہائش گاہ اور اس میں ان کی موجودگی کا پتا لگایا۔

ایبٹ آباد تحقیقاتی کمیشن کی جانب سے دوران تحقیقات ڈاکٹر شکیل آفریدی کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کی سفارش پر بعض حلقوں میں تنقید ہوئی تھی اور یہ بھی کہا گیا کہ کمیشن نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔

پاکستان کی پارلیمنٹ کی قرارداد کی روشنی میں بننے والے اس کمیشن کے سربراہ ملک کی اعلیٰ عدالت کے سینئیر ترین جج جناب جسٹس جاوید اقبال مقرر کیے گئے تھے جبکہ دیگر ارکان میں لیفٹنٹ جنرل ریٹائر ندیم احمد، سابق پولیس سربراہ عباس خان اور سابق سفیر اشرف جہانگیر قاضی شامل ہیں۔

جسٹس جاوید اقبال سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے ریٹائر ہونے کے بعد بھی اس کمیشن کے سربراہ کے طور پر برقرار ہیں۔

اسی بارے میں