ان بارشوں سے کہہ دو ۔۔۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اگر بارش کی قدر سیکھنا ہے تو تھر کے بیاباں سے بہترشاید ہی پاکستان میں کوئی اور جگہ ہو۔ بارش کا پہلا قطرہ دھرتی پر نہیں تھری کے دل پر پڑتا ہے۔ برسات کی سمجھ میں نہیں آتا کہ آدمی زیادہ خوش ہے کہ پیاسی زمین کہ ٹنڈ منڈ جھاڑ کہ گائے، بکری، بھینس۔ چٹیل بیاباں اور ٹیلوں پر بارش کا میلہ شروع ہوتے ہی سبز سرکس لگ جاتا ہے۔ کہیں آک کے پودے قلابازیاں کھا کر ناظر کا دل جیتنے کی کوشش کرتے ہیں تو کہیں نیم اچھل رہا ہوتا ہے تو کہیں جنگلی پھول شعلے اگل رہے ہوتے ہیں تو کہیں مور قوسِ قزح فروخت کرتے نظر آتے ہیں تو کہیں اونٹ آسمان سے تھوتھنی ملانے کی تگ و دو میں ہوتے ہیں۔ ایک طرف تتلیوں کا مقابلہِ حسن ہورہا ہے تو دوسری جانب چکور اور طوطے بلبل کی غزل پر فریفتہ ہو رہے ہیں۔اور تو اور بارش کی تاثیر سے کوے، چیل، گدھے، کتے اور سانپ پر بھی نکھار آجاتا ہے۔

بارش ہوتے ہی تھر میں یکایک بہت ساری جھیلیں آسمان سے اتر آتی ہیں مگر دو تین ماہ کی چھب دکھلا کر سورج کے ساتھ فرار ہوجاتی ہیں اور ان جھیلوں کے سحر زدہ پرندے سال کے باقی دن جوگی بن کر ’سب مایا ہے‘ گاتے پھرتے اڑتے ہیں۔ آکاش انصاری کے بقول:

’اٹھا کے سامنے رکھ دو سمندر

مگر پیاسے کا پیاسا تھر رہےگا‘

دراصل بارش میں بھیگا تھر ہی سر سارنگ ہے۔ شاہ لطیف نے بس یہ کیا کہ اس سر کو بوند بوند جمع کر کے ہمارے لیے رکھ دیا۔ لیکن تھر کے لیے میری مدح سرائی اس سال ’آؤٹ آف ڈیٹ‘ ہوچکی ہے۔ آپ چاہیں تو اسے کھڑکی سے باہر پھینک سکتے ہیں۔

غضب خدا کا! جب تھری بچہ اپنی ماں سے ’بارش کب ہوگی‘ پوچھنے کے بجائے یہ پوچھے کہ ’بارش کب رکے گی‘ تھر کا شاعر بارش کا قصیدہ کہنے کے بجائے اس کی ہجو لکھنا شروع کردے اور بجائے یہ کہ ایک عام تھری غربت اور قحط سالی کے ہاتھوں نہری علاقوں کی طرف نقل مکانی کرے، الٹا نہری علاقوں کے لوگ اپنے مال مویشیوں سمیت لاکھوں کی تعداد میں تھر کے اونچے ٹیلوں پر چڑھنے کے لیے مجبور ہوجائیں تو سمجھ لیجیے قیامت نزدیک ہے۔

عمر کوٹ کے نواحی گاؤں روہل وا کا ستر سالہ جمن جب چالیس برس پہلے ایک پنجابی لڑکی کی محبت میں مبتلا ہو کر میرپور خاص سے پیدل لاہور پہنچ گیا تو اس نے اپنے نام کے ساتھ دربدر کا اضافہ کرلیا۔ مگر جمن سے جو کام فراقِ محبوب نا کروا سکا وہ بیری برکھا نے کروا دیا۔ جمن نے اس برس بارش کی شان میں جو شاعری کی اس کا اقتباسی ترجمہ پیشِ خدمت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

’اس سال ساون رلا گیا، ہر نگر و بستی جلا گیا

کیا نارو، لاڑ، سانگھڑ و بدین، پانی پانی ہوئی زمین

نہ سائباں نہ دیوار، نہ ملکیت نہ اسباب

مسکینوں کا خوف دیکھو، افسروں کی نیند دیکھو

تاجروں کی من مانی دیکھو، وزیروں کی میٹنگیں دیکھو

الہیٰ برباد کو آباد کر، گوالوں کے دل پھر سے شاد کر

ہمیشہ یہ سندھ اپنے بل پر جیے یا صرف تیری مہربانی پر جیے

خدا دربدر کی دعا کر قبول، مہربانی برسا تو میرے رسول‘

تھر کے ایک اور شاعر حلیم باغی کے بقول آج لطیف سائیں ہوتا تو وہ بھی ساون کا قصیدہ کہنے کے بجائے مرثیہ لکھتا۔ یہ کہتے ہوئے باغی نے اپنا سندھی مرثیہ سنا دیا۔

’پردیس کے مسافر ترا دیس ڈوب گیا

ایک بچہ کاندھے پر اٹھائے کوئی بوڑھا دوڑ رہا ہے

بادل بے مہار ہے، بجلی اندر تک کھائے جاتی ہے

خوبصورت پنچھی کو بھوک اڑا لے گئی

یہ جھونپڑا گرا کہ دل گرا

اور صاحب ہے کہ اے سی چلا کر کہتے کہتے سو گیا ہے

خلقِ خدا سے کہو میری نیند نہ کرے حرام ‘

بارش کی مذمت نے صرف سندھی شاعروں کو ہی اپنی لپیٹ میں نہیں لیا گویے بھی اپنا غصہ راگ کے بل پر نکال رہے ہیں۔ان دنوں سندھ کا کوئی گویا تان سین کی طرح سر لگانے کا خواب نہیں دیکھ رہا مبادا پھر بارش ہوجائے۔

بدین میں میری ملاقات گلوکار استاد بادل راہی سے کروائی گئی۔ استاد نے بتایا کہ میرا جنم بھی کسی بارش میں ہوا تھا چنانچہ ماں نے نام بادل رکھ دیا لیکن آج کل میں لوگوں کو اپنا پورا نام بتاتے ہچکچاتا ہوں۔ بادل کے پانچ بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں۔ پچھلے ڈیڑھ ماہ سے بدین میں کسی نے بھی بادل کو کسی تقریب میں گائیکی کی زحمت نہیں دی۔ اب بس ہارمونیم بکنے کی دیر ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

مگر بادل نے ماحول کی مناسبت سےآغاز ہی فراز سے کیا

’ان بارشوں سے دوستی اچھی نہیں فراز

کچا تیرا مکان ہے کچھ تو خیال کر‘

اور پھر اس میں آکاش انصاری کا کلام جوڑ دیا

’سنو جب تک یہ کچا گھر رہے گا

ہمیشہ بارشوں کا ڈر رہے گا‘

حال یہ ہے کہ جو کلام بھی گایا جائے لگتا ہے بارش آلودہ ہے۔ بادل راہی نے حسن درس کی غزل کیا چھیڑی گویا آنکھوں سے جھڑی لگ گئی۔

’تنہا تنہا، تنہا جیون، بھوگے چھو تو مانہوں جو من

کوئی بھی کہنجو نہ آہے، کو بھی کنہن نا چاہے

ٹھاہے نہ تھو ہتے کو، ڈوڑھی تھو ہر کو ڈھاہے

پرزہ پرزہ ساری ہستی، جھڑندا رہندا پیلا ہی پن

واپس موٹے کیڈہاں آخر، ویرانی میں خالی موسم

تنہا تنہا ، تنہا جیون ۔۔۔‘

کیا اس کلام کے ترجمے کی بھی ضرورت ہے ؟؟؟

اسی بارے میں