شمالی وزیرستان میں ڈرون حملہ، تین ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس علاقے میں پہلے بھی کئی بار ڈرون حملے ہوچکے ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں جمعرات کی صبح ایک امریکی ڈرون حملے میں تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کو بتایا کہ امریکی ڈرون طیارے نے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ سے تین کلومیٹر کے دور مغرب کی جانب ڈانڈے ترپاخیل میں ایک گاڑی کو میزائلوں سے اس وقت نشانہ بنایا جب وہ شہر سے نواحی علاقے کی طرف جارہی تھی۔

اہلکار نے بتایا کہ گاڑی میں تین مسلح افراد سوار تھے جو حملے میں موقع پر ہلاک ہوگئے۔

اہلکار کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں کہ ہلاک ہونے والوں کا تعلق کس گروپ سے ہے لیکن تینوں مسلح شدت پسند تھے۔ حملے سے جائے وقوعہ کے قریب ایک مکان کو بھی جزوری طور پر نقصان پہنچا ہے۔

حملے کی زد میں آنے والا علاقہ افغان سرحد کے قریب واقع ہے اور جائے واقعہ کے قریب جلال الدین حقانی کا مرکزی مدرسہ بھی قائم ہے جو کچھ عرصہ پہلے پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے مسمار کردیا تھا۔

مقامی لوگوں کے مطابق اس علاقے میں حقانی نیٹ ورک کے علاوہ دوسرے شدت پسند گروہوں کے بھی جنگجو موجود ہیں۔ اس علاقے میں پہلے بھی کئی بار ڈرون حملے ہوچکے ہیں جن میں مقامی شدت پسندوں کے علاوہ پنجابی طالبان اور غیرملکی شدت پسند بھی مارے گئے ہیں۔

یہ علاقہ سرحد پار افغانستان سے کئی بار گولہ باری کی زد میں بھی آتا رہا ہے جس میں عام شہری بھی مارے جاتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں