جیلوں کی رپورٹ سےحکومتِ پنجاب متفق

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں جیلیں جرائم کو روکنے کی بجائے جرائم کے سکول کالج اور یونیورسٹی میں تبدیل ہوچکے ہیں

پاکستان میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی حکومت نے ’انٹرنیشنل کرائسسز گروپ‘ کی جیلوں کے بارے میں ایک رپورٹ سے مکمل اتفاق کیا ہے۔

سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ جیلیں حکومت کی ترجیحات میں ہی شامل نہیں ہیں۔

لاہور میں نامہ نگار علی سلمان نے انہیں انٹرنیشنل کرائسسز گروپ کی رپورٹ کا حوالہ دیکر پوچھا کہ کیا پاکستانی جیلیں واقعی جرائم کے فروغ کا سبب بن چکی ہیں اور کیا واقعی جیلوں کے عملے کت تعداد ضرورت سے کم اور بدعنوان ہے؟

اس کے جواب میں سینٹر پرویز رشید نےکہا ’بات تو ان کی درست ہے اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے۔انہوں نے جو نتیجہ نکالا ہے وہ غلط نہیں ہے۔ جیلوں میں اصلاح کی شدید ضرورت ہے یہ ایک ایسا شعبہ ہے جسے نظر انداز کیا گیاہے۔‘

انہوں نے کہا کہ جیلوں میں قیدی کو لاکر میں بند کرنا اس کی تین وقت کا کھانا کھلانا اور اسے بروقت عدالت میں پیشی پر بھجوانے کو ہی اصل ڈیوٹی سمجھ لیا گیا ہے جو کہ غلط ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں جیلیں جرائم کو روکنے کی بجائے جرائم کے سکول کالج اور یونیورسٹی میں تبدیل ہوچکے ہیں۔حکومتِ پنجاب کے میڈیا ایڈوائزر پرویز رشید نے کہا کہ جیلوں کے بہت سے ایسے پہلو ہیں جن پر توجہ کی ضرورت ہے۔ حکومت گوناں گوں مسائل میں الجھ چکی ہے اور بہت سے معاملات پر توجہ نہیں دے پا رہی۔

سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ وہ جیلوں کے معاملے میں حکومت کا دفاع نہیں کریں گے بلکہ عملی صورتحال بتائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب ملک میں بارہ بارہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہورہی ہو، سرمایہ کار ملک سے بھاگ رہے ہوں، سڑک پر خود کش حملے ہو رہے ہوں تو حکومت کے پاس بہت سے ایسے مسائل ہیں جنہیں پہلے توجہ دینے کی ضرورت ہے اس وجہ سے یہ شعبہ نظر انداز ہو رہا ہے۔

حکومت پنجاب کے ترجمان نے کہا کہ ان کی جماعت کے منشور میں شامل ہے کہ جیلوں کو اصلاح گھر بنایا جائے اس کی گنجائش میں اضافہ کیا جائے اور جیلوں کی طرف رخ کرنے والوں کی تعداد میں بھی کمی کی جائے لیکن ہرعمل کے لیے پیسے درکار ہوتے ہیں جو حکومت پنجاب کے پاس نہیں ہیں۔ پہلے سال سیلاب نے گھیرا پھر ڈینگی وائرس آگیا۔ آبادی بڑھتی چلی جارہی ہے اور آمدنی کم ہوتی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو بھی اس جانب دیکھنا چاہیے کہ پاکستان نے شدت پسندی کے خلاف جنگ کی کتنی بڑی قیمت ادا کی ہے اور کر رہا ہے۔ مسلم لیگ نون کے سینیٹر نے کہا کہ یہ عالمی برداری کی بھی ذمہ داری ہے اور اسے بھی پاکستان کے مسائل کے حل کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔

بی بی سی سے