’تحقیقات بہت حد تک مکمل ہو چکی ہے‘

سلیم شہزاد تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption چار ماہ گزرنے کے باوجود کمیشن کی جانب سے کسی قسم کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آ سکا ہے۔

مقتول صحافی سلیم شہزاد کے قتل کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی پانچ رکنی انکوائری کمیشن کا کہنا ہے کہ اس کیس کی تحقیقات بہت حد تک مکمل ہو چکی ہے تاہم اب بھی رپورٹ پیش کرنے کے لیے کسی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا جا سکتا۔

اس سال یکم جون کو پنجاب کے علاقے منڈی بہاؤالدین سے صحافی سلیم شہزاد کی لاش ملی تو صحافتی تنظیموں اور سِول سوسائٹی نے اس واقعے پر شدید احتجاج کیا تھا۔

حکومت نے ان تمام تحفظات کو مدِنظر رکھتے ہوئے پندرہ جون کو سپریم کورٹ کے جج جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں پانچ رکنی انکوائری کمیشن تشکیل دیا تھا۔

اگرچہ کمیشن کواس واقعے کی تحقیقات اور قتل کے محرکات پر اپنی حتمی رپورٹ پیش کرنے کے لیے چھ ہفتے کا وقت دیا گیا تھا۔ لیکن تقریباً چار ماہ گزرنے کے باوجود کمیشن کی جانب سے کسی قسم کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آ سکا ہے۔

پاکستان میں صحافیوں کی نمائندہ تنظیم ’فیڈرل یونین آف جرنلسٹس‘ کے صدر اور اس کمیشن کے اراکین میں سے ایک، پرویز شوکت کا کہنا ہے کہ انہیں افسوس ہے کہ کچھ صحافی جن کو بیانات کے لیے بلایا گیا تھا، انہوں نے اس ایشو کو اہم نہیں سمجھا یا شاید ان کے پاس وقت نہیں تھا۔

’جو نام پی ایف یو جے نے دیے تھے کہ یہ لوگ اپنے بیان قلبند کروائیں گے وہ آئے ہی نہیں، ان لوگوں نے تاخیر کی اور دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ نجم سیٹھی نے ایک عام سا بیان دیا اور اس پر بات کرنے کے بجائے امریکہ چلے گئے۔‘

دوسری اہم وجہ پرویز شوکت کے نزدیک مقتول صحافی کی بیوہ اور بھائی کی عدم موجودگی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ مقتول صحافی کی بیوہ کی عدت کی مدت ہونے اور بھائی کی عدم موجودگی نے بھی اس کیس کی تحقیقات میں رکاوٹ ڈالی، تاہم اب ان کے بھائی کا بیان ریکارڈ کر لیا گیا ہے۔ وفاقی تحقیقاتی دارے ایف آئی اے کے سائبر لنک سے جو رپورٹ مانگی اس میں بھی تاخیر ہوئی۔

پرویز شوکت کا کہنا ہے کہ اس کمیشن کو قائم کرنے اور رپورٹ کے لیے چھ ہفتے کا وقت مقرر ہونے کی وجہ یہ تھی کہ ’حکومت کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ یہ کیس اتنا طویل ہو سکتا ہے۔ یہ کوئی اتنا آسان ایشو نہیں ہے، بلائنڈ مرڈر کیس ہے، ایسا تو نہیں کہ قاتل سامنے کھڑے ہیں اور انہیں پکڑ لیا جائے سو وقت تو لگے گا۔‘

تحقیقات کے بارے میں پرویز شوکت نے بتایا کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے حکام کو طلب کیا گیا، ان کے بیانات ریکارڈ کیے گئے، اس کے علاوہ ایف آئی اے سے مقتول صحافی کے فون ریکارڈ پر مشاورت کی گئی۔ اور پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کو بھی فون ریکارڈ محفوظ کرنے کی ہدایات کی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انکوائری کافی حد تک مکمل ہو چکی ہے اور وہ اس سے اب تک مطمئن ہیں۔

پرویز شوکت نے کہا کہ جو بھی تاخیر ہوئی ہے وہ غیر ضروری نہیں ہے اور نہ ہی جسٹس ثاقب نثار چاہتے ہیں کہ ایسی کوئی تاخیر ہو۔ فی الحال پولیس انکوائری چل رہی ہے اور مقتول صحافی کے کمپیوٹر لیپ ٹاپ کا کوئی سراغ نہیں مل سکا نہ ہی ان کی ای میلز کا پاس ورڈ معلوم ہو سکا ہے۔ تاہم اب بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے لیکن پرویز شوکت کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ آئندہ ماہ کسی وقت اس کیس کی رپورٹ جاری کی جا سکتی ہے۔

مقتول صحافی سلیم شہزاد کو نامعلوم افراد نے مئی کی انتیس تاریخ کو اسلام آباد سے اغواء کر لیا تھا اور یکم جون کو ان کی لاش ملی جس پر تشدد کے نشانات تھے۔ واقعے پر چند حلقوں نے شدید تنقید کرتے ہوئے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے اس واقعے میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تاہم آئی ایس آئی نے اس الزام کی تردید کی تھی۔

بی بی سی سے