ہفتہ وار دو چھٹیوں نوٹیفکشن

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

وفاقی حکومت نے ملک کو درپیش توانائی کے بحران اور خاص طور پر بجلی کی بچت کے لیے کل سے سرکاری دفاتر میں ہفتہ وار دو چھٹیوں کا اعلان کیا ہے۔

نوٹیفیکیشن کے مطابق بینکوں کی کچھ مخصوص شاخیں کھلی رہیں گی۔

اس بات کا اعلان وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے اعلامیے میں کیا گیا ہے۔

اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار نخبت ملک سے وزارت پانی و بجلی کے مشیر تنویر ملک نے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ قدم ملک میں بجلی کی بچت مہم کے تحت اٹھایا گیا ہے۔

’یہ بجلی بچانے کی ایک کوشش ہے اور اس کا اطلاق تمام وفاقی اداروں، کارپوریشنز وغیرہ پر ہو گا۔ سٹیٹ بینک بھی بند رہے گا۔ تاہم کچھ بینکوں کی مرکزی شاخیں کھلی رکھی جائیں گی جن میں وہ شاخیں جو ہوائی اڈوں پر ہیں یا کسی انڈسٹریل علاقے میں ہیں۔ تاہم اس کا فیصلہ سٹیٹ بینک خود کرے گا یا پھر متعلقہ بینک۔‘

سٹیٹ بینک کے ترجمان سید وسیم الدین کا کہنا ہے کہ ابھی یہ فیصلہ ہونا باقی ہے کہ کون سی مرکزی شاخیں کھلی رہیں گی لیکن سٹیٹ بینک ہفتے کے روز بند ہو گا۔

دوسری طرف اسلام آباد کے علاقے آبپارہ میں قائم ایک کمرشل بینک کے برانچ مینیجر آصف منیر کا کہنا ہے کہ سٹیٹ بینک کی ہدایت پر انہیں عمل کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بینکوں کی مرکزی شاخیں کھلی رکھنے کا مقصد یہ ہے کہ تاجروں کو کم سے کم نقصان ہو کیونکہ سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ ہمیں حکومت کے اعلامیے پر بھی عمل کرنا ہے اور تاجروں کے مالی معاملات میں بھی روانی رکھنی ہے ۔ ’درمیان کا راستہ یہی ہے کہ کچھ مرکزی شاخوں کو ہفتے کے روز کھلا رکھا جائے۔‘

وزارت پانی و بجلی کے مشیر تنویر ملک کہتے ہیں کہ یہ وفاقی اعلامیہ ہے اور صوبائی حکومت اس کی پابند اس لیے نہیں کہ وہ یہ فیصلہ خود کریں گے کہ انہیں اپنے دفاتر کھلے رکھنے ہیں یا نہیں۔

تنویر ملک کے مطابق اگر صرف وفاق کی سطح پر دیکھا جائے تو اس اقدام سے بجلی کی خاطر خواہ بچت ہو سکتی ہے۔

’ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اگر صرف وفاقی ادارے بند ہوں اور ان کے ساتھ سندھ، بلوچستان یا خیبر پختونخوا حکومت میں سے کوئی بھی شامل ہو جائے تو روزانہ تقریباً آٹھ سو میگاواٹ بجلی کی بچت ہو گی۔ اور اگر کوئی اور شامل نہ ہو تو بھی پانچ سو میگاواٹ بجلی بچائی جا سکتی ہے۔‘

تنویر ملک نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان میں ستر فیصد تھرمل بجلی کی پیداوار فرنس آئل پر ہو رہی ہے اور جس دن دفاتر بند ہوں گے اس تیل کی بچت ہو گی۔ ’ملک میں پہلے ہی سرکلر ڈیبٹ کا مسئلہ ہے ، پیسوں کا بھی ایشو بنتا ہے تو یہ تیل کی بچت ہم آگے آنے والے دنوں میں استعمال کر لیا کریں گے۔‘

لیکن سٹیٹ بینک کے ترجمان سید وسیم الدین کے مطابق اس سے کچھ خاص فرق نہیں پڑے گا۔ ’کیونکہ بینکوں کے اوقات کار بڑھا دیے گئے ہیں۔‘

پاکستان میں دو چھٹیوں کا فیصلہ گزشتہ سال بھی کیا گیا تھا تاہم اسے کچھ عرصے بعد واپس لے لیا گیا۔ لیکن اس سال اسے غیر میعنہ مدت کے لیے نافذ کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں