’ایک شہر سے دوسرے تو پھر ’ایبراڈ‘ کیوں؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

پاکستان میں ویسے تو جنرل پرویز مشرف کی جانب سے قومی اسمبلی کے اراکین کے لیے گریجوئیشن کی شرط ختم ہوگئی ہے لیکن موجودہ اسمبلی کا جب انتخاب ہوا تھا تو اس وقت گریجوئیشن کی شرط عائد تھی اور اس اعتبار سے یہ قومی اسمبلی گریجویٹ اراکین پر مشتمل ہے۔

گریجویٹ اسمبلی میں ایک بڑا لطیفہ جمعہ کو اس وقت ہوا جب فیصل آباد سے مسلم لیگ نواز کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے صاحبزادہ محمد فضل کریم نے، جن کی اپنی بھی ایک مذہبی سیاسی جماعت ہے، پاکستان کی ریاستی فضائی کمپنی ’پی آئی اے‘ کے خلاف ایک شکایت پیش کی۔

’میں پی آئی اے کی پرواز سے کراچی سے اسلام آباد آ رہا تھا اور جیسے ہی میں اپنی نشست پر پہنچا تو لکھا ہوا تھا ’ویلکم ایبراڈ‘ (Welcome Abroad) ۔۔۔ میں پریشان ہوا کہ میں تو پاکستان کے ایک شہر سے دوسرے شہر میں جا رہا ہوں، بیرون ملک نہیں تو پھر یہ ایسا کیوں لکھا ہے ۔۔۔ میں نے عملے کے ایک رکن سے پوچھا تو وہ بھی خاموش ہوگئے۔‘

جس پر پریس لاؤنج میں قہقہ لگا کیونکہ وہ اصل میں لکھا ہوتا ہے ’ویلکم ابورڈ‘ (Welcome Aboard)۔ کسی بھی رکن نے اس بات کا نوٹس نہیں لیا۔

صاحبزادہ فضل کریم نے اگلی سانس میں بتایا کہ پی آئی اے کے طیارے میں دوران پرواز تقریباً چالیس نشستوں پر پانی ٹپکنا شروع ہوگیا۔

ان کے بقول انہوں نے عملے سے کہا کہ طیارہ قریبی ایرپورٹ پر اتاریں اور مسئلہ حل کریں تو انہیں عملے نے کہا کہ کوئی مسئلہ نہیں جلد پہنچ جائیں گے۔ انہوں نے پی آئی اے کی پروازوں کی تاخیر کا معاملہ بھی اٹھایا اور کہا کہ حکومت اس کا نوٹس لے۔

لیکن پریس گیلری میں ایک اور قہقہہ اس وقت لگا جب لندن کے گریجویٹ فیصل کریم کنڈی جو سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا کے بیرون ملک ہونے کی وجہ سے قائم مقام سپیکر ہیں، انہوں نے رولنگ دے دی کہ حکومت پی آئی اے کے مینجنگ ڈائریکٹر کو طلب کرے اور وضاحت لے۔

اب پتہ نہیں کہ ڈیرہ اسماعیل خان سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے پاکستان کے نوجوان ترین ڈپٹی سپیکر نے یہ رولنگ ’ویلکم ایبراڈ‘ والے معاملے پر بھی دی ہے یا نہیں کیونکہ انہوں نے اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی۔

’باکمال لوگ لاجواب سروس‘ کا نعرہ ویسے تو پی آئی اے کا ہے لیکن پاکستانی پارلیمان کے ایوان زیریں کے معزز اراکین اگر مناسب سمجھیں تو وہ اپنے ایوان کے لیے بھی پی آئی اے سے ادھار پر لے کر استعمال کرسکتے ہیں۔ ویسے بھی پی آئی اے آج کل بہت خسارے میں۔

پاکستان کی قومی اسمبلی جسے حزب مخالف اکثر طور پر ایک ’ڈبیٹنگ کلب‘ کہتی ہے، اس میں گزشتہ روز کی بدترین ہلڑ بازی اور گالم گلوچ کے بعد جمعہ کو ماحول کافی سازگار رہا۔

حکومت نے دو بل منظور کروائے جس کی اپوزیشن کی جانب سے کوئی مخالفت نہیں ہوئی۔ شاید مسلم لیگ (ن) نے فراخدلی کا یہ مظاہرہ اس لیے کیا کہ کل چوہدری نثار علی خان کی دھمکی کے بعد انہوں نے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کا بل مؤخر کر دیا تھا۔

جمعہ کو جو دو بل منظور ہوئے اس میں ایک ’دی پرائیویٹ پاور انفراسٹرکچر بورڈ بل 2010‘ تھا جبکہ دوسرا بل پریشان حال اور زیر حراست خواتین کی مدد کے بارے میں انیس سو چھیانوے کے قانون میں ترمیم کا بل تھا۔

قومی اسمبلی میں جمعہ کو صحافیوں نے پریس گیلری سے علامتی واک آؤٹ کیا۔ یہ واک آؤٹ جمعرات کو اس واقعے پر احتجاج کے طور پر کیا گیا جس میں سندھی روزنامہ کاوش کے نیوز ایڈیٹر اور سینئر صحافی نیاز پنھور کی گاڑی جلانے، کاوش اخبار کے ایک ملازم کے گھر پر فائرنگ کرنے، کاوش اخبار کے مختلف شہروں میں بنڈل جلانے اور چند روز قبل حیدرآباد پریس کلب کے باہر ایک اور سینئر صحافی مہیش کمار کی گاڑی پر گولیاں مارنے کے خلاف ۔

نیاز پنھور کو جامشورو میں نامعلوم افراد نے روک کر انہیں گاڑی سے باہر نکال کر ان کی گاڑی پر تیل چھڑک کر آگ لگا دی۔ جبکہ چند روز قبل مہیش کمار کی پارکنگ میں کھڑی گاڑی پر نامعلوم افراد گولیاں برسا کر فرار ہوگئے۔

واک آؤٹ کے بعد قائم مقام سپیکر کی ہدایت پر وزیر داخلہ رحمٰن ملک صحافیوں کو منانے آئے اور یقین دلایا کہ حکومت ملزمان کا پتہ لگا کر انہیں گرفتار کرے گی اور صحافیوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

روزنامہ کاوش کے بیورو چیف قربان بلوچ نے وزیر داخلہ کو بتایا کہ حکومت نے روزنامہ کاوش کے گزشتہ چند ماہ سے اشتہارات بند کیے ہوئے ہیں لیکن اس وقت ان کا احتجاج اشتہارات کی بندش کے خلاف نہیں اور نہ ہی انہیں پتہ ہے کہ حملوں میں کون ملوث ہیں۔

اسی بارے میں