پولیس افسران کی بریت کی درخواستیں مسترد

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AFP

راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کے ملزمان ڈی آئی جی سعود عزیز اور ایس ایس پی خرم شہزاد وڑائچ کی بریت کی درخواستیں مسترد کردی ہیں۔

بے نظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں سرکاری وکیل چوہدری ذوالفقار نے بی بی سی کو بتایا کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزمان کے خلاف استغاثہ نے ٹھوس ثبوت پیش کیے کہ جن کی بناء پر ان کی درخواست منظور نہیں کی جاسکتی ہے۔

بی بی مقدمہ:افسران کی ضمانت

پولیس اہلکار سہولت کار تھے: سرکاری وکیل

‘عدالت نے میرے ساتھ اتفاق کیا کہ دونوں ملزمان کے خلاف ٹھوس ثبوت موجود ہیں کہ ان کا جرم کے ارتکاب سے براہ راست تعلق ہے اس لیے ان کی بریت کی درخواست مسترد کی جاتی ہے۔‘

چوہدری ذوالفقار نے کہا کہ عدالت نے دونوں طرف کے دلائل سننے کے بعد ان دونوں ملزمان کی بریت کی درخواستیں مسترد کردیں۔

نامہ نگار ذوالفقار علی کے مطابق دونوں پولیس افسران سعود عزیز اور خرم شہزاد نے یہ درخواست دی تھی کہ ان کے شواہد نہ ہونے کی وجہ سے ان کے خلاف کوئی جرم ثابت نہیں ہوتا ہے لہذا ان کو بری کیا جائے۔

ان دونوں پولیس افسران ڈی آئی جی سعود عزیز اور ایس ایس خرم شہزاد وڑائچ پر بے نظیر بھٹو کے قتل کی سازش میں ملوث ہونے اور خودکش حملہ آور کی معاونت کرنے کا الزام ہے۔

سعود عزیز بے نظیر بھٹو کے قتل کے وقت راولپنڈی پولیس کے سربراہ تھے جبکہ خرم شہزاد راول پنڈی کے علاقے راول ٹاؤن کی پولیس کے نگراں تھے۔

پاکستان کی سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں پانچ اور ملزمان بھی گرفتار ہیں جنہیں سابقہ حکومت کے دور میں مختلف علاقوں سے گرفتار کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں