موت سے جیل بھلی!

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سالِ رواں کے پہلے آٹھ ماہ میں اب تک پانچ صحافی خود خبر بن چکے ہیں

بلوچستان میں پچھلے پونے تین برس میں میڈیا سے متعلق پندرہ اصحاب ہلاک ہوئے ہیں۔ ان میں سے بارہ صحافی یا تو خفیہ اداروں کی جانب سے لاپتہ ہونے کے بعد مار دیے گئے یا پھر مسلح قوم پرست گروہوں کی گولی سینے میں اترگئی۔

سب سے زیادہ صحافی یعنی پانچ مکران میں اغوا ہونے کے بعد ہلاک ہوئے۔اس کے بعد خضدار میں چار صحافی ٹارگٹ کلنگ یا بعد از اغوا مارے گئے۔کوئٹہ میں بھی چار ہلاکتیں ہوئیں جن میں ایک صحافی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا ، دو کیمرہ مین اور ایک ڈرائیور کوریج کے دوران خودکش حملوں میں کام آئے۔ جبکہ مچھ اور حب میں ایک ایک صحافی مارا گیا۔

سن دو ہزار آٹھ میں دو ، دو ہزار نو اور دس میں تین تین اور سالِ رواں کے پہلے آٹھ ماہ میں اب تک پانچ صحافی خود خبر بن چکے ہیں۔

ٹارگٹ کلنگ یا بعد از اغوا موت کا نشانہ بننے والے یہ صحافی یا تو سیکورٹی فورسز اور مسلح چھاپہ مار تنظیموں کی نظروں میں مشکوک ہونے کے سبب ہلاک ہوئے یا پھر اپنے ہی ادارے کی غیر زمہ داری کی بھینٹ چڑھ گئے۔

مثلاً جنگ گروپ کے ہفت روزہ اخبارِ جہاں میں قوم پرست رہنما بالاچ مری کی موت پر کوئٹہ سے نامہ نگار ڈاکٹر چشتی مجاہد کی دو ہزار آٹھ میں جو رپورٹ شائع ہوئی بظاہر اس میں کوئی بات متنازعہ یا اشتعال انگیز نہیں تھی ۔لیکن کراچی میں بیٹھے کسی سب ایڈیٹر نے ان کے مضمون پر یہ سرخی جما دی کہ’دو گز زمین بھی نا ملی کوئے یار میں‘۔ڈاکٹر صاحب کے کچھ صحافی دوست آج تک سمجھتے ہیں کہ یہ سرخی چشتی مجاہد کو خون میں نہلا گئی۔ان کی موت کی زمہ داری بی ایل اے نے قبول کر لی۔

اسی طرح نسلی و مذہبی منافرت کے مفہوم سے نابلد کئی مقامی اخبارات میں لشکرِ جھنگوی سمیت متعدد کالعدم تنظیموں سے منسوب بیانات کافر اور پنجابی جیسی اصطلاحات سمیت شائع ہوتے رہے۔

آج بلوچستان کا لگ بھگ ہر صحافی حالتِ جنگ کا قیدی ہے۔ایک جانب سرکاری ایجنسیوں اور کالعدم مذہبی و قوم پرست تنظیموں کے دھمکی آمیز پیغامات ہیں تو دوسری جانب بڑے شہروں یا دیگر صوبوں میں قائم ان صحافیوں کے اخباری دفاتر اور چینلز میں وہ لوگ بیٹھے ہیں جن کی اکثریت اپنے رپورٹرز کی مشکلات اور بلوچستان کے زمینی حالات و حساسیت سمجھنے سے پیدل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption آج بلوچستان کا لگ بھگ ہر صحافی حالتِ جنگ کا قیدی ہے

مرے پر تیسرا درہ بلوچستان ہائی کورٹ کا وہ حالیہ ازخود فیصلہ ہے جس کے تحت کسی بھی اخبار و چینل پر کالعدم تنظیموں کی خبر شائع یا نشر کرنا انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے دائرے میں آتا ہے۔

عدالت نے روبرو صحافیوں کی اس دلیل سے اتفاق نہیں کیا کہ وہ جان کے خطرے کے پیشِ نظر ہر فریق کی نیوز کوریج پر مجبور ہیں، کیونکہ ریاستی مشینری انہیں تحفظ فراہم میں ناکام ہے۔عدالت نے کہا کہ حالات و مجبوری آئین و قانون کی راہ میں حائل نہیں ہوسکتی۔

چنانچہ اب جب کہ بلوچستان کے صحافی بند گلی میں پہنچ چکے ہیں ۔انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ عدالتی حکم نہیں مانیں گے اور قتل ہونے کے مقابلے میں جیل جانے کو ترجیح دیں گے۔تاکہ چھ ماہ تو مزید زندہ رھ سکیں کم از کم۔۔۔

اسی بارے میں