دو چھٹیوں پر شہریوں کا ردعمل

پاکستان میں بجلی کی قلت دور کرنے کے لیے ہفتہ وار دو چھٹیوں کے وفاقی حکومت کے فیصلے کو تاجر برادری نے مسترد کر دیا ہے۔ اس ضمن میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر داؤد عثمان جاکورا کا کہنا ہے کہ بجلی بچانے کے لیے دو چھٹیاں کرنے کا فیصلہ صنعتوں اور تاجر برادری کو نقصان پہنچائے گا۔

حکومت پاکستان کی جانب سے دو چھٹیاں کرنے اور مارکیٹیں جلد بند کرنے کا فیصلہ پہلی بار نہیں کیا گیا۔ بجلی بچانے کے لیے حکومت اس سے پہلے بھی ایسا کر چکی ہے فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار مارکیٹیں آٹھ بجے بند کرنے کی بجائے شام ہوتےہی بند کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ حکومت کے اس فیصلے کی پہلے بھی بہت مخالفت کی گئی تھی اور اب اس سے زیادہ مخالفت ہو رہی ہے۔

داؤد عثمان جاکورا نے کراچی سے بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا ملک دو چھٹیوں کا متحمل نہیں ہو سکتا اور پاکستان بھر میں تاجر برادری دو چھٹیوں کے حکومتی فیصلے کو ماننے کے لیے تیار نہیں اور وہ اپنے فورم سے حکومت سے یہ درخواست کر چکے ہیں کہ اس فیصلے پر نظر ثانی کرے۔

ہفتہ وار دو چھٹیوں کے وفاقی حکومت کے اعلان کے بعد اسٹیٹ بینک نے چند مخصوص برانچوں کے علاوہ تمام بینکوں کو دو دن بند کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔ جبکہ وفاق کے بعد پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بھی دو ہفتہ وار چھٹیوں کا اعلان کر دیا گیاہے تاہم صوبائی حکومتوں نے ابھی اس ضمن میں کوئی نوٹیفیکشن جاری نہیں کیا۔

پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف کا کہنا ہے کہ وفاق نے دو چھٹیوں کے لیے نہ تو ان سے مشاورت کی ہے اور نہ ہی وہ اس فیصلے کے پابند ہیں۔ لاہور چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عرفان قیصر شیخ کے بقول بھی اس فیصلے کے لیے تاجر برادری سے مشاورت کی ضرورت تھی۔

عرفان قیصر شیخ کا کہنا ہے کہ حکومتی فیصلے کا اثر تو براہ راست تاجر برادری پر پڑتا ہے لیکن حکومت نے ہم سے بات کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ ہفتہ وار دو چھٹیوں سے چھوٹی ہوں یا بڑی تمام طرح کی صنعتیں متاثر ہوں گی۔ عرفان قیصر کہتے ہیں کہ اس وقت پاکستان کی جو معاشی حالت ہے اس کو دیکھتے ہوئے تو ایک چھٹی بھی زیادہ ہے کیونکہ ہمیں اس وقت ہنگامی بنیادوں پر کام کی ضرورت ہے تاکہ ہم کم از کم جنوبی ایشائی ممالک سے تو مقابلہ کر سکیں۔

عام دکاندار بھی شام ہوتے ہی دکانیں بند کرنے کے فیصلے سے نالاں ہیں۔ مردانہ ملبوسات کا کاروبار کرنے والے طاہر رمضان کا کہنا ہے کہ کاروبار کے حالات تو پہلے ہی بہت برے ہیں اس فیصلے سے مزید خراب ہو جائیں۔انہوں نے کہا کہ عام طور پر لوگ اپنے دفاتر سے واپس آنے کے بعد خریداری کے لیے آتے ہیں اور جب حکومت نے آٹھ بجے مارکیٹیں بند کروانی شروع کیں تھیں تب بھی ہمارے خریدار تنگ تھے لیکن اب اگر چھ بجے بند کریں گے تو کاروبار تو بالکل ٹھپ ہو جائےگا۔

لاہور کی ایک اہم مارکیٹ میں خواتین کے عروسی ملبوسات کے تاجر عبدالحمید بھی حکومت کے فیصلے کو نا انصافی قرار دیتے ہیں۔ ان کا بھی یہی کہنا تھا کہ خواتین شام کو خریداری کرتی ہیں اور ہمارا کاروبار تب ہی چلتا ہے اگر ہم رات گئے تک دکانیں کھلی رکھیں۔

یہ تاجر بجلی کے بلوں پر بھی کافی ناراض تھے اور ان کا کہنا تھا کہ آئے روز بجلی کے نرخوں میں اضافے نے بھی ان کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔

دو ہفتہ وار تعطیلات کا اطلاق وفاقی اداروں میں کل یعنی پندرہ اگست سے ہو جائے اور ابھی صوبوں میں اس پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔ تاہم ایک ہی ملک میں دو نظام قائم کرنا مشکل ہے اور مبصرین کے بقول مالیاتی اداروں کے وفاق کے تحت ہونے کے سبب بالآخر صوبائی حکومتوں کو بھی یہ فیصلہ ماننا پڑے گا۔