’مسائل اپنی جگہ مگر ووٹ بھٹو کو‘

عبدالخالق تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عبدالخالق سیاست سے دور رہتے تھے مگر بھٹو خاندان سے غیر مشروط محبت انہیں جلوس میں لے گئی

لیاری کی ایک تنگ گلی میں واقع ایک گھر میں رہنے والی ایک بوڑھی ماں جو بیٹے کی ہلاکت کے بعد دل کی مریضہ بن چکی ہیں۔

اٹھارہ اکتوبر دو ہزار سات کو پاکستان پیپلز پارٹی کی مرحوم چیئر پرسن بینظیر بھٹو کی وطن واپسی پر استقبال کے جلوس میں دھماکے سے فٹ بالر عبدالخاق بلوچ سمیت تقریباً ڈیڑھ سو کارکن اور ہمدرد ہلاک ہوگئے تھے۔

ویسے تو عبدالخالق سیاست سے دور رہتے تھے مگر بھٹو خاندان سے غیر مشروط محبت انہیں کھینچ کر جلوس میں لے گئی۔ ہلاکت سے ایک روز قبل عبداالخالق اپنی ماں کہر بی بی سے ملنے آئے تھے۔

ان کی والدہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے ان سے کہا کہ ’تم نے اچھے کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ خالق نے قریبی کھڑی بہن کو کہا کہ تمہاری نظر نہ لگ جائے۔ وہ عید کے دن آیا تھا اس کے بعد چلا گیا اور واپس اس کی لاش آئی‘۔

حکمران پیپلز پارٹی نے اس دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو ملازمتیں، فلیٹ اور معاوضہ دینے کا اعلان کیا۔ عبدالخالق کے چھوٹے بھائی عبدالرزاق ملازمت کی تلاش میں اسلام آباد تک گئے۔

عبدالرزاق کے بقول اسلام آباد میں صدر زرداری کی بہن فریال تالپور سے ملاقات ہوئی تھی۔ ان کے سکریٹری نے کہا کہ آپ واپس بھی نہیں پہنچوں گے کہ آپ کی نوکری کا آرڈر گھر پہنچ چکا ہوگا اور اس بات کو بھی تین سال ہوچکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ووٹ بھٹو کو دیں گے، کسی اور کو نہیں، کیونکہ یہ میرے بیٹے کی خواہش تھی: کہر بی بی

’ کم سے کم ایسی نوکری تو دیں جس سے بارہ تیرہ ہزار روپے تو مل سکیں جس سے گھر بار چلایا جا سکے۔ ’اگر نئی ملازمت نہیں دیتے تو میری ملازمت بحال کرا دیں جو جنرل مشرف کے دور میں واپس لے لی گئی تھی‘۔

عبدالرزاق کو یاد ہے کہ اٹھارہ اکتوبر دھماکے کے دوسرے روز بینظیر بھٹو ان کے گھر پہنچ گئی تھیں اور ان کا حوصلا بڑھایا تھا۔ بقول ان کے اس کے بعد ان کے دروازے پر کوئی نہیں آیا۔

اس دھماکے میں ہلاک ہونے والے کارکنوں کے لواحقین کو نیشل ہائی وے پر واقع ایک عمارت میں فلیٹ دیے گئے۔ رزاق بلوچ کے مطابق یہ فلیٹ انتہائی خستہ حال ہیں، ان میں کھڑکیاں اور دروازے تک نہیں تھے جب کہ آئے روز وہاں چوریاں ہوتی رہتی ہیں۔

جنرل ایوب خان سے لے کر جنرل پرویز مشرف تک لیاری کے جیالوں کی جد و جہد کی ایک طویل داستان ہے۔ حالیہ برسوں میں یہاں پاکستان پیپلز پارٹی کے بجائے پیپلز امن کمیٹی نامی تنظیم زیادہ سرگرم رہی جس نے کسی دوسری جماعت کے لیاری میں سیاست کرنے کا امکان تقریباً ختم کر دیا۔

یہ امن کمیٹی پیپلز پارٹی کی قیادت کے اندر اور اتحادی جماعت کے ساتھ بھی تنازعے کا باعث بنی رہی۔ متحدہ قومی موومنٹ نے امن کمیٹی پر ناراضی کا اظہار کیا اور معاملہ حکومت سے علیحدگی تک جا پہنچا۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کے باغی رہنما اور سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے کھل کر امن کمیٹی کی حمایت کی اور آخر کار وہ اپنے منصب سے مستعفی ہوگئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اگر نئی ملازمت نہیں دیتے تو میری ملازمت بحال کرا دیں جو جنرل مشرف کے دور میں واپس لے لی گئی تھی: عبدالرزاق

پیپلز امن کمیٹی کے رہنما ظفر بلوچ امن کمیٹی اور پیپلز پارٹی کو ایک ہی چیز قرار دیتے ہیں۔

’صدر زرداری کی تو یہ سوچ رہی ہے کہ وہ لیاری کے لوگوں کو ان کے حقوق دینا چاہتے ہیں مگر ان کے ساتھ جو ٹیم ہے اس میں قابلیت نہیں ہے۔ ان کا ایجنڈہ کرپشن کا فروغ ہے۔ اس لیے لیاری کو وہ حصہ نہیں مل سکا ہے جو اسے ملنا چاہیے تھا۔ لیکن میڈیکل کالج کی صورت میں ایک کوشش ضرور کی گئی ہے۔‘

لیاری کی سڑکیں آج بھی ٹوٹی ہوئی ہیں، کئی علاقوں میں پینے کے پانی کا مسئلہ برقرار ہے، بجلی کالوڈ کم آتا ہے۔ ظفر بلوچ کا کہنا ہے کہ لیاری کا بنیادی مسئلہ تعلیم اور روزگار ہے جب کہ امن امان کی صورتحال کچھ بہتر ہوئی ہے۔

لیاری پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کا حلقہ انتخاب رہا جو بینظیر بھٹو اور موجودہ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری تک جا پہنچا۔ اب یہ حلقہ بھٹو کے نواسے بلاول بھٹو زرداری کو وراثت میں ملے گا۔

ان محرومیوں کے باوجود عبدالخالق کی والدہ کا کہنا ہے کہ وہ ووٹ بھٹو کو دیں گی، کسی اور کو نہیں، کیونکہ یہ ان کے بیٹے کی خواہش تھی۔

کارساز کے مقام پر پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے ایک جلسہ منعقد کیا جا رہا ہے اور شمعیں بھی جلائی جائیں گی۔ گزشتہ چار سالوں میں دھماکے کی جگہ پر یاددگار تو تعمیر کی گئی مگر مقدمے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ ہاں اتنا ضرور ہوا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت نے جن پر انگلیاں اٹھائیں ان میں سے کچہ اس وقت حکومت کے اتحادی بن چکے ہیں۔

اسی بارے میں