’ایجنسیوں کی رپورٹ بدنیتی پرمبنی‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اسلام آباد کے مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء میں سے ساٹھ فیصد مقامی ہیں: تنظیم المدارس

پاکستان کے دینی مدارس کی بڑی تنظیم وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے خفیہ ایجنسیوں کی اس رپورٹ کو سراسر بددیانتی قرار دیا ہے جس میں کہا گیا کہ اسلام آباد اور اس کے گرد ونواح میں واقع دینی مدارس میں پڑھانے والے بیشتر معلم اور ان مدارس میں پڑھنے والے اکثر طالب علم مقامی نہیں ہیں۔

اس رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ ان مدارس میں پڑھانے والے اساتذہ کا تعلق پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے مختلف علاقوں کے علاوہ گلگت، بلتستان اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں سے ہے۔

دیوبندی مکتب فکر کے مدارس کی تنظیم وفاق المدارس العربیہ کے جنرل سیکرٹری مولانا قاری محمد حفیظ جالندھری نے اس رپورٹ کو خلافِ حقیقت، بدنیتی پر مبنی اور مدارس کے خلاف جاری پروپیگنڈہ مہم کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ اسلام آباد کے مدارس سے استفادہ کرنے والے طلباء میں سے ساٹھ فیصد مقامی بچے اور مقامی طلباء ہیں۔

بی بی سی کی جانب سے خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹ جاری کرنے پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے مولانا محمد حنیف جالندھری نے کہا کہ اسلام آباد کے مدارس میں زیر تعلیم بچوں کے مقامی غیر مقامی ہونے کی بحث چھیڑنے والوں کو بتانا چاہیے کہ اسلام آباد کے عصری تعلیمی اداروں کے طلباءاور ملازمین میں سے کتنے مقامی ہیں اور کتنے غیر مقامی؟

انہوں نے کہا کہ اگر اسلام آباد میں تعلیمی یا کاروباری مقاصد اورملازمت وغیرہ کی غرض سے مقیم لوگوں کے اعداد وشمار جمع کیے جائیں تو مدارس میں زیر تعلیم طلباءان غیر مقامی افراد کا صرف ایک فیصد یا دو فیصد بھی نہیں بنیں گے لیکن اس کے باوجود ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مدارس کے اساتذہ وطلباءکو ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے۔

حفیظ جالندھری نے، جو کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن بھی ہیں، استفسار کیا کہ صرف دینی تعلیم کے حصول کے لیے ہی پاکستانی شہریوں کے اسلام آباد میں قیام کو کیوں جرم قرار دیا جا رہا ہے؟

خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق ان مدارس میں سے اکثریت دیوبند فرقے سے تعلق رکھنے والوں کی ہے جس کی تعداد ڈھائی سو سے زائد ہے۔ تعداد کے حساب سے دیو بند مدارس کے بعد سب سے زیادہ بریلوی پھر اہل حدیث اور سب سے آخر میں شعیہ فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنے مدرسے اور مساجد بنا رکھی ہیں۔