تحریک انصاف کا جلسہ، حکومت کی شرائط

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صوبائی حکومت نے تحریکِ انصاف کو مینارِ پاکستان پر جلسہ کرنے کے لیے تین درجن کڑی شرائط رکھیں ہیں۔

حکومتِ پنجاب نے حزبِ مخالف کی جماعت تحریک انصاف کو صوبائی دارالحکومت لاہور میں جلسے کی مشروط اجازت دیتے ہوئے اس پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ جلسے میں آئینی عہدیداروں، فوج اور عدلیہ کے خلاف کسی قسم کی کوئی تقاریر نہیں کی جائیں گی۔

تحریکِ انصاف تیس اکتوبر کو لاہور میں مینارِ پاکستان کے مقام پر ایک جلسہ کر رہی ہے اور اس بابت صوبائی حکومت سے اجازت لی گئی ہے۔

صوبائی حکومت نے تحریکِ انصاف کو مینارِ پاکستان پر جلسہ کرنے کے لیے ڈیڑھ درجن شرائط عائد کی ہیں۔ صوبائی حکومت نے تحریکِ انصاف کے عہدیداروں کو خبردار کیا ہے کہ ان اٹھارہ شرائط کی خلاف وزری کرنے پر جلسہ منسوخ تصور ہوگا اور تحریک انصاف کے عہدیداروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جاسکتی ہے۔

سیاسی مبصرین کی رائے ہے کہ حکومت نے جن شرائط پر تحریکِ انصاف کو جلسہ کرنے کی اجازت دی ہے وہ عجیب اور غیر معمولی ہیں۔

پنجاب حکومت کی طرف سے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسر لاہور نے تحریکِ انصاف کو پابند کیا ہے کہ وہ اپنے تیس اکتوبر کو ہونے والے جلسے کے لیے متعلقہ ایجنسی کی اجازت کے بغیر کسی قسم کی وال چاکنگ نہیں کرسکیں گے اور نہ ہی انہیں شہر میں بینر لگانے کی کوئی اجازت ہوگی۔

اجازت نامے میں یہ بھی پابندی لگائی گئی ہے کہ جلسے کے دوران کوئی پتلا نہیں جلایا جائےگا اور نہ ہی کسی سیاسی، مذہبی اور کسی ملک کے پرچم کو نذرِ آتش کیا جائے گا۔

تحریکِ انصاف اس بات کو یقینی بنائے گی کہ دورانِ جلسہ کسی مذہبی گروپ، جماعت اور فرقے کے خلاف ایسی بات نہیں کی جائے گی جس سے کسی کی دل آزاری ہو جبکہ کسی متنازعہ معاملے پر بھی بحث نہیں کی جائے گی۔

اجازت نامے میں تحریکِ انصاف کو اس بات سے سختی سے پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے جلسے کی تشہیر کے لیے کسی قسم کی گاڑی کو استعمال کرتے ہوئے اعلانات بھی نہیں کریں گے۔

جلسے کے دوران تحریکِ انصاف کی یہ بھی ذمہ داری ہوگی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ لاؤڈ سپیکر اور ساؤنڈ سسٹم کو جلسے کے دوران صرف جلسے کے اندر ہی استعمال کیا جائے۔

صوبائی حکومت کی طرف سے تحریکِ انصاف پر یہ شرط بھی رکھی گئی ہے کہ جلسے کے حوالے سے کوئی جلوس اور ریلیاں نہیں نکالی جائیں گی۔

اجازت نامے میں کہا گیا ہے کہ شہر کے باہر سے آنے والے افراد بھی ان شرائط پر عمل درآمد کریں گے اور اس کی خلاف وزری کی ذمہ داری جلسے کے منتظمین پر عائد ہوگی۔

سیاسی تجزیہ نگار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کا کہنا ہے کہ تحریکِ انصاف کو جن شرائط پر جلسہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے وہ نا قابلِ عمل اور غیر ضروری ہیں۔

ان کے بقول آمریت کے دور میں بھی جلسے کرنے کے لیے ایسی محضوص پابندیاں نہیں لگائی گئیں۔

ڈاکٹر حسن عسکری کی رائے ہے کہ حکومتِ پنجاب نے ’ایک ہاتھ سے دو اور دوسرے ہاتھ سے لو‘ کی پالیسی پر عمل کیا ہے اس طرح ایک طرف جلسے کی اجازت دے دی گئی ہے اور دوسری طرف ان پابندیوں کی خلاف وزری کی آڑ میں اجازت واپس لے لی گئی ہے۔

ان کے بقول ہر جلسے میں ایک ذمہ دارانہ طریقے سے تنقید کی جاتی ہے اور اس جلسے میں بھی نکتہ چینی کی جائے گی۔

اسی بارے میں