’ریلوے بند کرنے کی تجویز دی تھی‘

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ٹرینوں کو چلانے کے لیے تین سو انجن فوری درکار ہیں

وفاقی وزیر ریلوے غلام احمد بلور نے کہا ہے کہ محکمہ ریلوے کے سالانہ اخراجات ساٹھ ارب روپے کے قریب ہیں جبکہ اس سال اس محکمے کی آمدنی بارہ ارب روپے سے زائد نہیں ہوگی۔

منگل کے روز اپنے دفتر میں پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ ان حالات کو دیکھتے ہوئے اُنہوں نے صدر آصف علی زرداری کو ریلوے کا محکمہ بند کرنے کی تجویز دی تھی جس سے اتفاق نہیں کیا گیا۔

وفاق وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ کہ سنہ دو ہزار نو میں ریلوے کی آمدنی بائیس ارب روپے تھی جبکہ سنہ دوہزار دس میں یہ آمدنی کم ہوکر اٹھارہ ارب روپے رہ گئی تھی۔

اُنہوں نے کہا کہ وزارت خزانہ کی طرف سے ایک ارب روپے ملنے کے بعد ملازمین کو بدھ سے تنخواہوں اور پینشن کا سلسلہ شروع کر دیا جائے گا۔ حکومت کی طرف سے اس اعلان کے بعد ریلوے ملازمین نے مختلف شہروں میں جاری ہڑتال کا سلسلہ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

غلام احمد بلور کا کہنا تھا کہ ریلوے کی بحالی کے لیے فوری ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ریلوے کے محکمے کو چلانے کے لیے ہر سال صرف تنخواہوں اور پنشن کی مد میں تیس ارب روپے کی ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ ریلوے کو چلانے کے لیے مختلف بینکوں سے چالیس ارب روپے بطور قرض لیے گئے تھے جن پر پانچ ارب روپے کے قریب سود بھی ادا کیا جا چکا ہے۔

غلام احمد بلور کا کہنا تھا کہ اُن کی وزارت میں یہ قرضہ واپس کرنے کی سکت نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ٹرینوں کو چلانے کے لیے تین سو انجن فوری درکار ہیں جبکہ پچیس انجن ہر سال سسٹم میں آ جانے چاہیئیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے پیر کو ایوان صدر میں ہونے والے اجلاس میں یہ تجویز دی تھی کہ ریلوے کا محکمہ مسلسل خسارے میں جارہا ہے لہذا اس کو بند کر دیا جائے۔

اُنہوں نے کہا کہ جس طرح افغانستان اور سعودی عرب میں بھی ریلوے کا محکمہ نہیں ہے اُسی طرح اگر پاکستان میں بھی نہ ہو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

غلام احمد بلور کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے صدر سے کہا تھا کہ اگر اُن کی وجہ سے ریلوے کا محکمہ خسارے میں جا رہا ہے تو ابھی وہ اپنی وزارت سے مستعفی ہونے کو تیار ہیں۔

یاد رہے کہ صدر آصف علی زرداری نے ٹرینیں چلانے کے لیے انجن کی خریداری کے لیے وزارت ریلوے کو چھ ارب روپے دینے کے بارے میں ہدایات جاری کی ہیں۔

اسی بارے میں