’ایجنٹ نے میچ فکسنگ کا کہا تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پاکستان کے سابق کپتان سلمان بٹ نے عدالت میں تسلیم کیا ہےکہ ان کے ایجنٹ مظہر مجید نے انہیں میچ فکسنگ کا کہا تھا لیکن انہوں نے اس درخواست کو نظرانداز کیا تھا۔

سلمان بٹ نے لندن کی عدالت میں سپاٹ فکسنگ کے مقدمے میں اپنا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ایجنٹ مظہر مجید نے انہیں گزشتہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران کہا تھا کہ وہ دانستہ طور پر اپنی وکٹ گنوایں اور انگلینڈ کے خلاف سیریز کے ایک میچ میں ایک اوور میں کوئی رنز سکور نہ کریں۔

سلمان بٹ نے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں ایسا کوئی کام نہیں کیا اور انہوں نے کبھی میچ کو’ مخصوص انداز‘ میں نہیں کھیلا۔ ’میں نے ہمیشہ اپنی صلاحیت کے مطابق بہترین کھیلنے کی کوشش کی‘۔

سلمان بٹ پر الزام ہے کہ انہوں نے چھتیس سالہ برطانوی شہری مظہر مجید اور فاسٹ بولر محمد آصف اور محمد عامر کے ساتھ مل کر میچ کا کچھ حصہ فکس کیا تھا۔

اپنے دفاع میں گواہی دیتے ہوئے سلمان بٹ نے کہا کہ ان کے ایجنٹ نے گزشتہ برس اوول کے میدان میں کھیلے جانے والے میچ کے آخری روز انہیں فون کیا تھا۔

سلمان بٹ سے جب پوچھا گیا کہ ان کا ایجنٹ مظہر مجید نے کیوں ایسا کہا ہے کہ سلمان بٹ میچ فکسنگ میں مدد کرے گا تو انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ (مظہر مجید) کسی کا اعتماد حاصل کرنے کےلیے ایسا کہہ رہا تھا۔

سلمان بٹ نے کہا مظہر مجید جھوٹ بول رہا تھا۔

سلمان بٹ نے عدالت میں تسلیم کیا کہ ان کے ایجنٹ نے انہیں کہا تھا:’ آپ کو پتہ ہے نا کہ ہم پہلا اوور میڈن کھیل رہے ہیں۔ اور تیسرا اوور جو تم کھیلو گے اسے بھی میڈن کھیلنا ہے۔‘

سلمان بٹ نے کہا کہ اس پر انہوں نے ایجنٹ کو کہا تھا’ بھائی بس چھوڑ دو، ٹھیک ہے‘۔

اپنے جواب کو تشریح کرتے ہوئے سلمان بٹ نے کہا کہ اس کا مطلب یہ تھا کہ میں نے آپ کی باتیں سن لی ہے اور میں اس گفتگو کو وہیں ختم کرنا چاہتا ہوں۔

استغاثہ کے الزام کے مطابق ایجنٹ مظہر مجید نےاگلے روز پھر سلمان بٹ کو یادھانی کرائی کہ گزشتہ رات طے ہونے والی بات پر عمل کرنا ہے۔ جس کے جواب میں سلمان بٹ نے کہا تھا کہ’ ٹھیک ہے‘۔

سلمان بٹ نے اپنے جواب ’ٹھیک ہے‘ کی تشریح کرتے ہوئے کہ وہ کسی کو ناراض کیے بغیر اس بات کو وہیں ختم کرنا چاہتے تھا۔ ’مجھے اس بات سے قطعاً کوئی دلچسپی نہیں تھی کہ وہ کیا کہہ رہا تھا‘

عدالت میں گزشتہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران ایجنٹ مظہر مجید اور سلمان بٹ کے مابین ہونے والی گفتگو کا بھی ذکر ہوا۔ پاکستان کو جب سیمی فائنل میں پہنچنے کے لیے جنوبی افریقہ کو ہرانا تھا، اس میچ سے پہلے مظہر مجید نے سلمان بٹ کو ٹیکسٹ میسج کیا تھا جس میں کہا تھا:’دوسری بات کے بارے میں کیا خیال ہے۔ ساتویں اوور میں ایک اور اٹھاویں میں بھی ایک گرنی چاہیے‘۔

سلمان بٹ نے کہا کہ انہوں نے مظہر مجید کے ٹیکسٹ میسج کا کوئی جواب نہیں دیا تھا اور نہ ہی انہوں نے آئی سی سی کو اس سے مطلع کیا تھا۔

سلمان بٹ نے کہا کہ جب ٹورنامنٹ کے دوران مظہر مجید سےملاقات ہوئی تو انہوں اس سے دریافت کیا تھا کہ اس نے ایسا ٹیکسٹ میسج کیوں کیا تھا تو مظہر مجید کا جواب تھا کہ وہ علوم کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ ہم اس ایسے کام کرتے ہیں یا نہیں۔ سلمان بٹ نے کہا کہ انہوں نے اپنے ایجنٹ کی بات پر یقین کر لیا تھا۔

اس سے پہلے سلمان بٹ کے وکیل علی باجوہ نے عدالت کو بتایا کہ مظہر مجید نے ان کے مؤکل کے اعتماد کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔

سلمان بٹ نے عدالت کو بتایا کہ وہ پہلی بار 2006 میں دورہ انگلینڈ کے دوران مظہر مجید ملے تھے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے مظہر مجید کے بھائی اظہر مجید کو اپنا ایجنٹ مقرر کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔

اپنی دولت کے حوالے سے سوالات کا جواب دیتے ہوئے سلمان بٹ نے کہا کہ انہوں سات سالہ کیئرئر کےدوران بارہ لاکھ پونڈ کمائے اور اس رقم میں سے سات لاکھ پچاس ہزار پونڈ دو ہزار سات سے لے کر دو ہزار دس تک بنائے۔

سلمان بٹ نے اپنے ہوٹل کے کمرے سے نو موبائل سم کارڈ برآمد ہونے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ لوکل فون کارڈز خریدنا بہت سستا پڑتا ہے۔

سلمان بٹ نے کہا کہ جب وہ انگلینڈ آئے تو وہ سات ہزار ڈالر اپنے ہمراہ لائے تھے کیونکہ وہ بریٹلنگ گھڑی خریدنا چاہتے تھے جس کی قیمت آٹھ ہزار پونڈ کے قریب ہے۔

مقدمے کی سماعت جاری ہے

اسی بارے میں