توانائی میں خود کفالت کا خواب

تربیلا ڈیم تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تربیلا ڈیم کی طرح بھاشا بھی دریائے سندھ پر بنایا جا رہا ہے۔

وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی نے اٹھارہ اکتوبر کو اُسی دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کا پھر سے افتتاح کردیا جس کی تعمیر کا فیتہ ساڑھے چھ برس پہلے سابق صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف نے کاٹا تھا۔

جب مشرف نے پہلا افتتاح کیا تھا تو اس وقت اس ڈیم کی تعمیری لاگت ساڑھے چھ ارب ڈالر بتائی گئی تھی اور یہ خوشخبری بھی سنائی گئی تھی کہ تعمیر دو ہزار پندرہ تک مکمل ہوجائے گی۔ لیکن یوسف رضا گیلانی نے کل فیتہ کاٹتے ہوئے کہا کہ ڈیم بارہ ارب ڈالر کی لاگت سے دو ہزار بائیس میں مکمل ہوگا اور اس سے ساڑھے چار ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی۔

اگرچہ یہ خبر خوش آئند ہے لیکن کیا کیا جائے کہ پاکستان کا توانائی کا خسارہ اس قدر زیادہ ہے کہ دیامر بھاشا ڈیم بھی اونٹ کے منہ میں زیرہ ثابت ہوگا۔اس وقت پاکستان میں سرکاری کاغذ پر تو اٹھارہ ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش ہے لیکن عملاً پندرہ ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا نہیں ہو پا رہی۔اس میں سے بھی چالیس فیصد یا تو چوری ہوجاتی ہے یا ضائع ۔

پاکستان میں بجلی کی ضرورت میں دس فیصد سالانہ کا اضافہ ہو رہا ہے۔گویا جب تک دیامر بھاشا ڈیم مکمل ہوگا تب تک بجلی کی ضرورت موجودہ اٹھارہ ہزار میگاواٹ سے بڑھ کر چھتیس ہزار میگاواٹ تک پہنچ چکی ہوگی۔

پاکستان جیسے ممالک کو اگر اپنی معیشت کا پہیہ آج کی گلا کاٹ مقابلے باز دنیا میں رواں رکھنا ہے تو اس کے لیے ہائڈرو اور تھرمل بجلی کی پیداوار کا تناسب ستر اور تیس فیصد ہونا چاہیے لیکن اس وقت پاکستان میں جتنی بھی بجلی پیدا ہورہی ہے اس میں پن بجلی کا تناسب پینتیس فیصد کے لگ بھگ ہے۔ باقی بجلی تھرمل ذرائع (گیس ، تیل اور کوئلے ، ایٹم ) سے حاصل ہو رہی ہے۔گویا جتنا فائدہ سستی پن بجلی سے ہو رہا ہے اس سے دوگنا مالی بوجھ تھرمل بجلی سے پیدا ہو رہا ہے اور یہ اس ملک میں ہو رہا ہے جہاں دریاؤں سے کم ازکم پچاس ہزار میگاواٹ بجلی بنانے کی گنجائش موجود ہے لیکن اس وقت محض ساڑھے پانچ ہزار میگاواٹ پن بجلی ہی میسر ہے۔

واپڈا اور وزارتِ پانی و بجلی کی خوبصورت رپورٹیں دیکھیں تو سب کی سب زیرِ تعمیر یا مجوزہ منصوبوں کا چمن زار محسوس ہوتی ہیں لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ بجلی کی ضرورت اور گنجائش کا فرق سپر سانک سپیڈ اور انقلابی اقدامات کے بغیر دور ہونا محال ہے۔ لیکن توانائی کے سیکٹر میں آج بھی کچھوا خرگوش سے زیادہ تیز دوڑ رہا ہے۔

مثلاً جناح بیراج ہائیڈرو پاور پروجیکٹ جون دو ہزار گیارہ میں ، گومل زام ہائیڈرو پروجیکٹ اکتوبر دو ہزار گیارہ میں ، سد پارہ ڈیم نومبر دو ہزار گیارہ میں اور دبیر کھاوڑ کوہستان پروجیکٹ دسمبر دو ہزار گیارہ میں مکمل ہونا تھا۔اگر یہ منصوبے بروقت پیداوار شروع کردیتے تو قومی گرڈ میں لگ بھگ ایک ہزار میگاواٹ سستی پن بجلی کا اضافہ ہوجاتا ۔مگر حکومت ان منصوبوں کی تکمیل کی اگلی تاریخ بتانے سے بھی گریزاں ہے۔موجودہ حکومت کے دور میں اب تک محض ایک بڑا آبی منصوبہ منگلا ریزنگ پروجیکٹ مکمل ہوسکا ہے جس سے نیشنل گرڈ میں چند سو میگاواٹ بڑھ جائیں گے۔

دنیا میں بیشتر ممالک کے پاس اس وقت دریا کے سالانہ بہاؤ کا چالیس فیصد پانی آبپاشی اور بجلی کی ضروریات کے لیے زخیرہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے ۔لیکن پاکستان جو شدید غذائی اور توانائی کی قلت والے ممالک کی فہرست میں خاصا اوپر آچکا ہے اس کے پاس اس وقت صرف تیرہ فیصد دریائی پانی محفوظ کرنے کی گنجائش ہے۔اور حالت یہ ہے کہ تربیلا ، منگلا اور چشمہ ہائیڈل پروجیکٹ میں پانی زخیرہ کرنے کی گنجائش پینتیس فیصد تک کم ہوچکی ہے۔جب تک دیامر بھاشا پروجیکٹ مکمل ہوگا تب تک تربیلا ، منگلا اور چشمہ کے آبی زخیرے کی گنجائش پچپن سے ساٹھ فیصد تک کم ہوچکی ہوگی۔

آبی بجلی کے بعد پاکستان کی آخری امید تھر کے کوئلے سے وابستہ ہے جسے چوتھا بڑا عالمی زخیرہ بتایا جا رہا ہے۔حکومت کی خواہش ہے کہ دو ہزار تیس تک پاکستان کی کم ازکم اٹھارہ فیصد توانائی ضروریات کوئلے سے پوری ہوسکیں۔لیکن تھر کول پر جس طرح کی سیاسی و تجرباتی نشتر آزمائی ہو رہی ہے اور وقت سے جنگ ہا رنے کے باوجود رینٹل پاور جنریشن کے مردہ گھوڑے کو کمیشن کی آکسیجن سے زندہ کرنے کی جیسی کوششِ لاحاصل ہو رہی ہے اس کے ہوتے ہوئے کوئلے کا مستقبل بھی تاریک نظر آرہا ہے۔

دوسری جانب ایران پاکستان گیس پائپ لائن اور ترکمانستان پاکستان پائپ لائن منصوبے بھی خواب سے تعبیر کے سفر کے دوران کہیں اٹک گئے ہیں۔

ان حالات میں توانائی میں خود کفالت کا خواب اس گاجر کی طرح ہے جو گدھے کے سر پر یوں لٹکائی جاتی ہے کہ گدھا یہ گاجر کھانے کی آس میں اپنی توانائی کے بل پر بس چلتا رہے چلتا رہے چلتا رہے ، جہاں تک چل سکے۔

اسی بارے میں