’فوج کی جنسی زیادتیوں کا معاملہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں انسانی حقوق کے سرکاری کمیشن نے ایک ہی گاؤں میں درجنوں خواتین کے ساتھ فوجیوں کی جنسی زیادتیوں کے معاملہ کی دوبارہ تفتیش کا حکم دیا ہے۔ اس سلسلے میں باقاعدہ حکم نامہ جمعرات کو جاری کیا جا رہا ہے۔

تیئیس فروری اُنیس سو اکیانوے کو سرینگر کے شمال میں سو کلومیٹر دور کپوارہ ضلع کے کنن پوشپورہ گاؤں میں بھارتی فوجی اہلکاروں نے تلاشی مہم کےدوران کم از کم تیس خواتین کے ساتھ مبینہ طور اجتماعی طور جنسی زیادتی کی۔

حقوق انسانی کے سرکاری کمیشن نے شعبہ قانون کے اُس وقت کے سربراہ کے خلاف قانونی کاروائی کی سفارش کی ہے، کیونکہ انہوں نے حکومت کو یہ معاملہ خارج کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ کمیشن نے حکومت سے کہا ہے کہ جنسی زیادتیوں کے اس معاملہ میں فریاد کرنے والے متاثرین کو دو لاکھ روپے کا نقد معاوضہ بھی دیا جائے۔

ریاستی کمیشن برائے انسانی حقوق کے ممبر جسٹس (ریٹائرڑ) جاوید کاووسہ نے بی بی سی کو بتایا: اُنیس سو اکانوے سے اب تک چاہے گورنر انتظامیہ رہا ہو، یا منتخب حکومتیں، کنن پوشپورہ کی واردات پر سب نے غفلت اور بے حِسی کا مظاہرہ کیا ہے‘۔

اس معاملہ کی شکایت کرنے والوں کے بیان کے مطابق: ’اُنیس سو اکانوے میں تیئیس اور چوبیس فروری کی درمیانی رات کو فوج نے کُنن پوشپورہ گاؤں کا محاصرہ کیا۔ مردوں کو کھیتوں میں جمع کیا گیا اور تیرہ سال سے ستّرہ سال کی عمر تک کی سبھی کنواری اور شادی شدہ خواتین کے ساتھ اجتماعی طور جنسی زیادتی کی گئی۔'

سرکاری کمیشن کے ممبران کا کہنا ہے کہ اس کیس میں جنسی زیادتی کے طبی شواہد بھی ملے تھے، لیکن اُس وقت کے حکام نے اس معاملہ کو گول کر دیا ۔

واضح رہے اس واردات کی جب عالمی سطح پر تشہیر ہوئی، تو پریس کونسل آف انڈیا نے حقائق جاننے کے لیے ایک وفد کشمیر بھیجا۔ اس وفد کی قیادت کونسل کے اُسوقت کے سربراہ بی جی ورگیس کر رہے تھے۔ جب انہوں نے اپنی رپورٹ مشتہر کردی تو انہوں نے فوج کے خلاف الزامات کو پراپیگنڈہ اور ’جھوٹ کا پلندہ‘ قرار دیا تھا۔ تاہم یہ رپورٹ ابھی تک ریاستی کمیشن کو دستیاب نہیں ہوئی ہے۔

اس کیس کی دوبارہ تفتیش سے متعلق کمیشن کے حکمنامہ میں لکھا ہے کہ ’محکمہ صحت کے عہدیداروں اور پولیس کے سربراہ نے جو اطلاعات ہمیں فراہم کی ہے اس کے مطابق اُن خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی تھی‘۔