’امریکی حقانی کے نمائندوں سے ملے تھے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستان کو جن چیلنجز کا سامنا ہے وہ ہم سمجھتے ہیں: ہلری کلنٹن

امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی حکام حقانی نیٹ ورک کے نمائندوں سے ملاقات کر چکے ہیں۔

انہوں نے یہ بات جمعہ کو اسلام آباد میں پاکستانی صحافیوں سے بات چیت کے دوران بتائی تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس ملاقات میں کون شامل تھا اور یہ کہاں ہوئی۔

تاہم ایک سینیئر امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات موسمِ گرما میں ہوئی تھی۔

ہلری کلنٹن کا کہنا تھا کہ ’امریکہ نے حقانی نیٹ ورک سے ابتدائی رابطہ کیا تھا تاکہ دیکھا جا سکے کہ وہ آتے بھی ہیں یا نہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ’درحقیقت پاکستانی حکام نے ہی اس ملاقات کا انتظام کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم نے طالبان سے رابطے کیے ہیں، ہم نے حقانی نیٹ ورک سے رابطہ کیا ہے تاکہ ان کی آمادگی اور خلوص کا اندازہ لگایا جا سکے اور اب ہم یعنی افغانستان، پاکستان اور امریکہ مل کر کام کر رہے ہیں کہ ایک ایسا نظام بنایا جا سکے جس کے تحت باقاعدہ مذاکرات ہو سکیں‘۔

اس سے قبل پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا تھا کہ پاکستان، افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو مذاکرات کے عمل کا حصہ بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ طالبان اور شدت پسند تنظیموں کو مذاکرات کے عمل میں لانا چاہیے اور اگر یہ کوشش ناکام ہو جاتی ہے تو ان کو مزید دہشت گردی کرنے سے روکنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ ’دہشت گروں کا مقابلہ کرنا ہو گا اور ختم کرنا ہو گا چاہے وہ طالبان ہوں یا حقانی نیٹ ورک ہو۔‘

امریکی وزارتِ خارجہ ہلری کلنٹن نے کہا ہے کہ حقانی نیٹ ورک دونوں کے لیے خطرناک ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن کے لیے مذاکرات کے عمل میں امریکہ اور پاکستان دونوں کو مل کام کرنا ہوگا اور اسی طرح حقانی نیٹ ورک کے حوالے سے بھی مل کر کام کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف صرف افغانستان میں لڑنے سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا بلکہ پاکستان میں بھی لڑنے کی ضرورت ہے۔

ہمیں اس بات پر متفق ہونا چاہیے کہ کافی عرصے سے دہشت گرد پاکستان میں اور پاکستان کی سرزمین سے کارروائیاں کر رہے ہیں۔ ’کسی کو بھی برداشت نہیں کیا جائے گا جو معصوم شہریوں کو نشانہ بناتا ہے چاہے وہ پاکستانی ہو، افغانی ہو یا امریکی ہو۔‘

پریس کانفرنس میں ہلری کلنٹن نے کہا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ طالبان پاکستانی سرزمین سے افغانستان میں حملے نہ کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل کیانی کے اس بیان سے متفق ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان افغانستان یا عراق نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان سے یہ مطالبے قطعی نہیں کر رہا کہ وہ اپنے سکیورٹی مفادات کو قربان کرے۔ ’پاکستان کو جن چیلنجز کا سامنا ہے وہ ہم سمجھتے ہیں۔‘

ہلری کلنٹن نے کہا کہ ہم پاکستانی سیاسی قیادت کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہ امریکہ نے کروڑوں ڈالر کی امداد پاکستان کو دی ہے۔ ’اب وقت ہے کہ منتخب حکومت اپنے وعدے پورے کرے یعنی بدعنوانی کا خاتمہ کرے اور اصلاحات لائے۔ اور عوام کا یہ فرض ہے کہ وہ ان اقدامات کا مطالبہ کرے۔‘

پاکستانی وزیر خارجہ حنا کھر نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان پر عزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت اور اداروں میں کوئی بھی نہیں ہے جو اس خطے میں امن اور سکیورٹی نہیں چاہتا۔

’دونوں ممالک کے تعلقات کو پارٹنر شپ کے طور پر دیکھنا ہو گا نہ کہ واشنگٹن پاکستان سے کیا چاہتا ہے اور اسلام آباد امریکہ سے کیا چاہتا ہے۔‘

حنا ربانی نے کہا کہ مفاہمتی عمل کی پاکستان حمایت کرتا ہے لیکن اس عمل کی سربراہی افغانستان کرے۔

اسی بارے میں