’لاپتہ افراد کے وکیل کو دھمکی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایڈووکیٹ انعام الرحیم جی ایچ کیو حملہ کیس میں گرفتار ملزم کے وکیل بھی ہیں

پاکستان میں مبینہ طور پر خفیہ اداروں کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے افراد کے فوجی اور سول عدالتوں میں مقدمے لڑنے والے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستانی فوج کے انٹیلی جنس ادارے کے ایک سینیئر افسر نے انہیں ان مقدمات کی پیروی سے باز نہ آنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے نام خط میں انعام الرحیم نے کہا کہ اگر انہیں کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری ملٹری انٹیلی جنس کے افسران پر ہو گی۔

پاکستانی فوج کے ذرائع نے کرنل انعام الرحیم ایڈووکیٹ کے اس دعوے کی تردید کرتے کہا ہے کہ مذکورہ وکیل کو احتیاط برتنے کو کہا گیا تھا لیکن اس میں دھمکی کا عنصر نہیں تھا۔

بی بی سی کے استفسار پر سیکورٹی ذرائع نے کہا کہ انعام الرحیم کو انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر طلب کیا گیا تھا اور ان سے کہا گیا تھا کہ وہ ایک حساس مقدمے کی تفصیلات غیر مجاز افراد کو فراہم کرنے سے اجتناب کریں کیونکہ اس طرح کچھ لوگوں کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ کرنل ریٹائرڈ انعام کو کسی قسم کی دھمکی نہیں دی گئی۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

تاہم انعام الرحیم نے اپنے دعوے پر اصرار کرتے ہوئے کہا کہ سترہ اکتوبر کو انہیں ایک فوجی افسر نے ٹیلی فون کر کے ملٹری انٹیلی جنس کے صدر دفتر آنے کی دعوت دی۔ اگلے روز وہ جب مذکورہ افسر کے پاس پہچنے تو انہیں دھمکی آمیز لہجے میں لاپتہ افراد کے مقدمات سے دستبردار ہونے کے لیے کہا گیا۔

انعام الرحیم نے کہا کہ مذکورہ افسر نے ان سے کہا’آرمی کے بارے میں ہر اہم کیس میں آپ کا نام بطور دفاعی کونسل آرہا ہے۔ آپ کے لیے بہتر یہ ہے کہ ان کیسوں سے دست بردار ہو جائیں۔ بیشک آپ اس کو نصیحت سمجھیں یا کچھ اور فوج کے مفاد کے لیے کچھ بھی کیا جا سکتا ہے اور آپ اس سے اچھی طرح واقف ہیں۔‘

انعام الرحیم نے کہا کہ انہوں نے ایک خط کے ذریعے یہ معاملہ چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری کے نوٹس میں لایا ہے۔

اس خط میں مذکورہ وکیل نے کہا کہ انہوں نے ملٹری انٹیلی جنس کے بعض افسروں کا نام تحریر کیا ہے جنہوں نے انہیں دھمکی دی ہے۔

انعام الرحیم نے کہا کہ اگر انہیں یا ان کے اہل خانہ کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری ملٹری انٹیلی جنس کے ان افسران پر عائد کی جائے۔

اسی بارے میں