بیگم نصرت بھٹو کو سپردِ خاک کر دیا گیا

نصرت بھٹو اور بینظیر بھٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نصرت بھٹو اور بینظیر بھٹو کی ایک یادگار تصویر

پاکستان کی سابق خاتون اوّل، سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی اہلیہ، سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی والدہ اورموجودہ صدر آصف علی زرداری کی ساس بیگم نصرت بھٹو کو پیر کے روز بھٹو خاندان کے آبائی قبرستان گڑھی خدا بخش میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

وہ اتوار کو دبئی میں انتقال کر گئی تھیں جس کے بعد ان کے جسدِ خاکی کو لاڑکانہ لایا گیا تھا۔

اس سے قبل نو ڈیرو میں ان کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی جس میں صدر آصف زرداری، وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی، مرحومہ کے نواسے بلاول بھٹو زرداری اور وفاقی وزرا سمیت بڑی تعداد میں پیپلز پارٹی اور اس کے سیاسی اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں نے شرکت کی۔

اس سے قبل اعلان کیا گیا تھا کہ بھٹو خاندان کے آبائی قبرستان گڑھی خدا بخش میں بیگم نصرت بھٹو کی تدفین کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا تھا کہ بیگم نصرت بھٹو کی میت پیر کو خصوصی طیارے کے ذریعے دبئی سے لاڑکانہ لائی جائے گی۔

گڑھی خدابخش میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی آمد شروع ہو گئی ہے۔

وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اتوار کو اعلان کیا تھا کہ بیگم نصرت بھٹو کی وفات کے سوگ میں پیر کو ملک میں عام تعطیل ہو گی اور دس روزہ سوگ منایا جائے گا۔

مرحومہ طویل عرصے سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھیں۔ وہ تئیس مارچ 1929 کو ایران کے شہر اصفہان کے ایک متمول خاندان میں پیدا ہوئی تھیں۔ 1951 میں ان کی شادی سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سے ہوئی۔

ان کے شوہر کو 1979 میں جب فوجی آمر جنرل ضیا الحق کے دور میں پھانسی دیدی گئی تو انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت سنبھالی اور عوامی احتجاج میں شریک ہوئیں جس کے دوران انھیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

ایک ماں اور عورت کی حیثیت سے انہوں نے اپنی زندگی سنگین ترین اور دردناک ترین حالات کا سامنا کیا۔ پہلے ان کے شوہر کو پھانسی دے دی گئی، پھر ان کے ایک بیٹے شاہنواز بھٹو پیرس میں پُر اسرار حالات میں مردہ پائے گئے، پھر ان کے بڑے بیٹے مرتضیٰ بھٹو کو کراچی میں ان کی رہائش گاہ کے قریب اس دور میں قتل کر دیا گیا جب خود ان کی بیٹی بینظیر بھٹو ملک کی وزیر اعظم تھیں اور آخر میں خود ان کی بیٹی بینظر کو اسی شہر میں قتل کر دیا گیا جس میں ان کے شوہر ؛ذوالفقار بھٹو کو پھانسی دی گئی تھی۔

اس کے علاوہ انہیں ایک آمرانہ فوجی حکومت کے خلاف عملی سیاسی جد و جہد والی ایک باعزم عورت کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

اسی بارے میں