’قومی تحریک کو ہائی جیک کرنے کی کوشش‘

فائل فوٹو، وادی نیلم میں احتجاج
Image caption وادی نیلم میں شدت پسند تنظیموں کی مبینہ سرگرمیوں کے خلاف احتجاج بھی ہو چکا ہے

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سرگرم عسکری تنظیموں نے بھارتی حکومت کے اس اقدام کے خلاف احتجاج کیا جس کے تحت آج سے چونسٹھ برس پہلے سنہ 1947 میں ریاست جموں کشمیر میں داخل ہوگئی تھی۔

اس احتجاجی اجتماع میں پاکستان کی کالعدم تنظیموں کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

خود مختار کشمیر کی حامی ایک اہم تنظیم کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جہادی تنظیمیں ان کے بقول ان کی قومی تحریک کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اسلام آباد میں ہونے والے اس اجتماع میں وادی کشمیر میں برسرپیکار کوئی ایک درجن کشمیری شدت پسند تنظیموں کے اتحاد متحدہ جہاد کونسل کی قیادت کے ساتھ ساتھ پاکستان کی کالعدم تنظیموں لشکر طیبہ، جیش محمد اورحرکت المجاہدین کے اہم رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

نامہ نگار ذوالفقار علی کا کہنا ہے کہ پولیس اس موقع پر موجود تو رہی لیکن اس اجتماع میں کالعدم تنظیموں کی شرکت کے باوجود پولیس نے کسی کارروائی سے گریز کیا۔

اس اجتماع کے اختتام پر ایک اعلانیہ بھی جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان سے کشمیر کی مکمل آزادی تک عسکری، سیاسی اور سفارتی سطح پر جدو جہد جاری رکھی جائے گی۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں عسکری جدو جہد شروع کرنے والی تنظیم خود مختادر کشمیر کی حامی تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ یعنی جے کے ایل ایف نے اس اجتماع پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا پاکستان کی کالعدم تنظیمیں ان کی ’قومی آزادی کی تحریک کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔‘

جے کے ایل ایف کے اہم رہنما توقیر گیلانی نےکہا’اس طرح کی تنظیموں کے اجتماع سے کشمیر کاز کو فائدہ کے بجائے نقصان پہنچتا ہے۔یہ تنظیمیں مسلسل ثابت کر رہی ہیں کہ وادی کشمیر میں درانداری ہو رہی ہے یا وہ کرنا چاہتے ہیں اور ہندوستان کے موقف کو تقویت پہنچا کر کشمیر کی تحریک کو دہشت گردی ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ہمارا واضح موقف ہے کہ کسی بھی کالعدم تنظیم اور غیر کشمیری تنظیم کو کشمیر میں کسی طرح کی جدوجہد خواہ وہ سیاسی کیوں نہ ہو حصہ لینے کا حق نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کو ان تنظیموں کی سرگرمیوں کا نوٹس لینا چاہیے۔

بھارت سے ریاست جموں کشمیر کی آزادی کی حامی تنظیمیں ہر سال ستائیس اکتوبر کو آج سے چونسٹھ برس پہلے بھارتی فوج کی وادی کشمیر میں داخلے کی برسی کے طور پر منانتے ہیں۔

جبکہ خود مختار کشمیر کی حامی تنظیمیں بائیس اکتوبر بھی بطور یوم سیاہ مناتے ہیں کیوں کہ ان کا موقف ہے کہ اس روز سنہ انیس سو سنتالیس میں پاکستان نواز قبائلی کشمیر میں داخل ہوئے تھے اور یہ کارروائی کشمیر میں بھارت کی مداخلت کی وجہ بنی یوں ریاست جموں کشمیر دو حصوں میں تقسیم ہوگیا۔

اسی بارے میں