سپریم کورٹ میں ججوں کی تعیناتی کی سفارش

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں ہونے والے جوڈشیل کمیشن کے اجلاس میں سپریم کورٹ میں چار ججز کی تعیناتی کی سفارش کی گئی ہے۔ ان ججز میں لاہور اور پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان بھی شامل ہیں۔

جمعرات کے روز چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں جوڈیشیل کمیشن کا اجلاس ہوا جس میں سپریم کورٹ کے پانچ سینئر ججز کے علاوہ وفاقی وزیر قانون اور اٹارنی جنرل نے بھی شرکت کی۔

نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ اجلاس میں طویل مشاورت کے بعد سپریم کورٹ میں خالی چار آسامیوں کو پُر کرنے کے لیے چار ناموں کی منظوری دی گئی۔ اُن میں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اعجاز چوہدری کے علاوہ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اعجاز رحیم بھی شامل ہیں۔

سندھ سے دو ججز کی سپریم کورٹ میں تقرری کی سفارش کی گئی ہے۔ ان میں سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس گلزار سعید اور حال ہی میں ریٹائر ہونے والے جسٹس اطہر سعید شامل ہیں۔

ان ججز کو سپریم کورٹ سے ریٹائر ہونے والے چار ججز کی جگہ پر تعینات کیا جائے گا۔ ان ججز میں جاوید اقبال، راجہ فیاض، رحمت حسین جعفری اور محمود اختر شاہد صدیقی شامل ہیں جبکہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے اور جسٹس غلام ربانی ایڈہاک جج کے طور پر ریٹائر ہوئے ہیں۔

جوڈیشیل کمیشن کے اجلاس میں لاہور ہائی کورٹ کے سینئر جج شیخ عظمت سعید کو لاہور ہائی کورٹ کا جبکہ جسٹس دوست محمد کو پشاور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس تعینات کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ پشاور ہائی کورٹ کے سینئر جج شاہ جہان کو نظر انداز کردیا گیا ہے۔

اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون مولا بخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ تمام معاملات افہام وتفہیم کے ساتھ طے کیےگئے ہیں۔

اجلاس میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں تین ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کے لیے تین ناموں کی منظوری دی گئی ہے۔ اُن میں پنجاب سے شوکت صدیقی، قبائلی علاقوں سے عظیم آفریدی اور سندھ سے انوارالحق قریشی شامل ہیں۔

جوڈیشیل کمیشن ان ججز کی تعیناتی کے لیے اپنی سفارشات پارلیمانی کمیٹی کو بھجوائے گا جو چودہ روز کے اندر ان سفارشات کو مسترد یا منظور کرنے سے متعلق فیصلہ دے گی۔

اسی بارے میں