’رینٹل پاور ابتداء سے ہی تنقید کی زد میں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان میں کرائے کے بجلی گھر کا تصور راجہ پرویز اشرف سے پہلے سابق وزیراعظم شوکت عزیز پیش کر چکے تھے

پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت نے ملک میں کرائے کے بجلی گھروں کی تنصیب کے معاہدوں پر ماہرین کی ان آراء کو جواز فراہم کر دیا ہے جن کا کہنا تھا کہ یہ معاہدے ناقابل عمل ہیں اور ان سے ملک کو فائدے سے زیادہ نقصان ہو گا۔

تین سال قبل کرائے کے بجلی گھروں کے حصول کی پالیسی کے اعلان کے ساتھ ہی ماہرین کی جانب سے اس پر اعتراضات بھی سامنے آنا شروع ہو گئے تھے جن میں کہا جا رہا تھا کہ یہ منصوبے ملک میں بجلی مہنگی کرنے کا باعث بنیں گے اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کم کرنے کے لیے مطلوبہ نتائج نہیں دے سکیں گے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کرائے کے بجلی گھروں میں بدعنوانی اور ملک میں بجلی کے بحران کے بارے میں ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران اپنے ریمارکس میں کہا کہ کرائے کے بجلی گھروں کے حصول کے لیے بہت جلد بازی سے کام لیا گیا۔

مئی دو ہزار آٹھ میں جب وفاق میں پیپلز پارٹی کے مخلوط حکومت کو بنے چند ماہ ہی ہوئے تھے، پانی و بجلی کے وفاقی وزیر راجہ پرویز اشرف نے ایک پالیسی بیان میں اعلان کیا تھا کہ حکومت بائیس سو میگاواٹ پیداوار دینے والے انیس بجلی گھر کرائے پر حاصل کر رہی ہے جو اسی سال کے آخر میں پیداوار شروع کر دیں گے۔

اس وقت ملک کو چار ہزار میگا واٹ بجلی کی کمی کا سامنا تھا۔

وفاقی وزیر پانی و بجلی کے اس اعلان کو فوری طور پر عوامی حلقوں میں خاصی قبولیت حاصل ہوئی لیکن ان ماہرین نے جو نجی بجلی گھروں کے حصول کے تکنیکی پہلوؤں سے واقف تھے ، اس اعلان کے قابل عمل ہونے کے بارے میں اپنے شکوک کا اظہار شروع کر دیا۔

راجہ پرویز اشرف کی وزارت نے اخبارات اور عوامی مباحثوں کا حصہ بننے والے ان اعتراضات کو نظر انداز کرتے ہوئے انیس نجی بجلی گھروں کے حصول کے معاہدے کر ڈالے۔

یہ معاملہ کھٹائی میں اس وقت پڑتا نظر آیا جب وزارت پانی و بجلی کی جانب سے اعلان کردہ یہ منصوبے اور ان کی تفصیل فیصلہ سازی کے قانونی طریقہ کار کے تحت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے سامنے پیش کیے گئے۔

اس وقت کے وزیر خزانہ اور اقتصادی رابطہ کمیٹی کے سربراہ شوکت ترین نے ان معاہدوں پر بعض اعتراضات کیے اور ان کے قابل عمل ہونے کے بارے میں وزارت پانی و بجلی سے وضاحت طلب کی گئی۔

اس جواب طلبی پر راجہ پرویز اشرف کی وزارت نے جو دستاویز اقتصادی رابطہ کمیٹی کے سامنے پیش کیں، ان میں شوکت ترین کے مطابق بعض سنگین غلطیاں تھیں۔

شوکت ترین کی کمیٹی نے ان معاہدوں پر سرسری نظر ڈالنے کے بعد جو اعتراضات کیے ان کے مطابق یہ بجلی گھر اتنی بجلی پیدا نہیں کر پائیں گے جتنی وزرت پانی و بجلی توقع کر رہی ہے کیونکہ ان میں سے بعض بجلی گھر پچیس سال تک پرانے ہیں جو اپنی کل صلاحیت کا صرف پینتیس فیصد تک ہی پیداوار دے سکتے ہیں۔

شوکت ترین کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان معاہدوں میں بجلی کے جو نرخ طے کیے گئے ہیں وہ مارکیٹ کے نرخ سے بہت زیادہ ہیں اور اگر ان نرخوں پر یہ بائیس سو میگا واٹ بجلی نظام میں شامل ہو جاتی ہے تو ملک میں بجلی کے نرخوں میں براہ راست تیس فیصد تک اضافہ ہو جائے گا۔

شوکت ترین کا تیسرا اعتراض یہ تھا کہ یہ معاہدے کرتے وقت وزارت پانی و بجلی نے اس بارے میں کوئی غور و خوض نہیں کیا کہ ان بجلی گھروں کو گیس یا تیل کہاں سے فراہم کیا جائے گا۔ ان میں سے بعض بجلی گھر ایسی جگہوں پر نصب کیے جا رہے تھے جہاں نہ گیس کی پائپ لائن تھی اور نہ ہی اتنی بڑی سڑک تھی کہ جس کے ذریعے تیل کی بلا روک فراہمی ممکن بنائی جا سکتی۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے یہ اعتراضات سنہ دو ہزار نو میں کابینہ کے سامنے رکھے جہاں ان منصوبوں کے خالق راجہ پرویز اشرف نے انہیں مسترد کر دیا۔ گرما گرم بحث کے بعد طے پایا کہ نجی بجلی گھروں کے حصول کے لیے غیر ملکی کمپنیوں اور وزارت پانی و بجلی کے درمیان ہونے والے معاہدوں کا تکنیکی جائزہ ماہرین کے ذریعے لیا جائے۔

اس مقصد کے لیے ایشیائی ترقیاتی بنک کے ماہرین کی خدمات حاصل کی گئیں جنہوں نے چند ماہ میں اپنی رپورٹ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے حوالے کر دیں۔

اس دوران رینٹل پاور منصوبوں کے نام سے یہ موضوع اخبارات میں زیر بحث رہا اور بعض سیاسی و غیر سیاسی شخصیات کی جانب سے ان منصوبوں میں بد عنوانی اور رشوت ستانی کے الزامات سامنے آتے رہے۔ یہ معاملہ اخبارات میں اچھالنے والوں میں اس وقت کی حزب اختلاف اور آج کی حکومت میں شامل فیصل صالح حیات اور مسلم لیگ ن کے راہنما خواجہ آصف پیش پیش رہے۔

ایشیائی ترقیاتی بنک کے ماہرین نے ان منصوبوں میں بدعنوانی کے بارے میں تو لب کشائی نہیں کی لیکن سرکاری ذرائع نے اس رپورٹ کے جن مندرجات سے صحافیوں کو آگاہ کیا ان کے مطابق شوکت ترین کی جانب سے اٹھائے گئے تقریباً تمام نکات اس رپورٹ میں اعداد و شمار کے ذریعے درست ثابت ہو گئے۔

ایشیائی ترقیاتی بنک کی رپورٹ کی روشنی میں شوکت ترین کی کمیٹی نے انیس میں سے پانچ منصوبوں کو منسوخ کرنے اور چھ پر نظر ثانی کی سفارش کر ڈالی۔

اس موقع پر سپریم کورٹ نے بجلی کے بحران اور کرائے کے بجلی گھروں میں بےضابطگیوں کے معاملے پر از خود نوٹس لیا اور یوں یہ تمام معاملہ عدالت عظمیٰ کے سامنے پیش کر دیا گیا۔

اس وقت تک پاکستان میں نوے میگاواٹ کے دو بجلی گھر اپنے پیدوار شروع کر چکے تھے اور حکومت کرائے کی بجلی کے حصول پر نوے ارب روپے خرچ کر چکی تھی۔

یاد رہے کہ کرائے کے بجلی گھروں کا تصور راجہ پرویز اشرف سے پہلے سابق وزیراعظم شوکت عزیز پیش کر چکے تھے اور ان کے دور میں کرائے کے دو بجلی گھر لگائے گئے تھے۔

اسی بارے میں