بیس سال بعد پہلی دیوالی

دیوالی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption خیبر پختون خوا کا یہ مندر عدالت عالیہ کے حکم پر کئی سال بعد عام عبادت کےلیے کھولا گیا تھا۔

پشاور کے ہندوؤں کے لیے وہ یقیناً خوشی کا دن ہو گا جب عدالت عالیہ کے حکم پر صوبے خیبر پختون خوا کے ایک تاریخی مندر بابا گوروگورکھ ناتھ کو کئی سال بعد عام عبادت کےلیے کھولا گیا تھا لیکن اُس دن کی اصل خوشی انہوں نے دیوالی کے تہوار پر منائی۔

پشاور شہر کے تاریخی تحصیل گورگٹھڑی کے احاطے میں واقع یہ مندر ایک سو ساٹھ سال قدیم ہے۔ تحصیل کے احاطے میں داخل ہوتے ہی دور سے موسیقی کی تیز آواز دینے لگی، یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ وہاں کوئی خاص تقریب ہو رہی ہے۔ جوں جوں مندر کی مندر کی مرکزی عمارت قریب ہو رہی تھی موسیقی کی آواز بھی تیز ہوتی جا رہی تھی اور جب بالکل قریب پہنچے تو سامنے ہر طرف ایک جشن جیسا سماں تھا۔

عمارت پر چاروں اطراف چراغاں تھا جبکہ اندرونی حصے میں مرد، خواتین اور بچے انتہائی جذباتی ماحول میں ڈھول کی تھاپ پر ناچ رہے تھے۔

مندر کا اندرونی حصہ دیوں اور روشنی سے جگمگا رہا تھا۔ عمارت کے اندر ایک کونے میں سنگت کا خصوصی انتظام تھا جہاں سے وقتاً فوقتاً مذہبی گیت یا بھجن گائے جا رہے تھے جبکہ ایک حصے میں دیگیں چڑھی ہوئی تھیں۔

مندر میں موجود ایک خاتون نادیہ نے بتایا کہ دیوالی کا تہوار ویسے بھی خوشیوں کا تہوار ہوتا ہے لیکن زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ کئی سالوں کے بعد اس مندر کو دوبارہ کھولا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہندؤوں اور مسلمانوں کے تہوار ساتھ ساتھ چل رہے ہیں، دیوالی کے بعد قربانی کی عید ہے اور وہ بھی ہم مسلمانوں کے ساتھ مل کر منائیں گے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ بیس سال کے بعد پہلی مرتبہ اس مندر میں دیوالی کی تقریب بڑے اہتمام اور دھوم دھام سے منائی جا رہی ہے۔

ایک مقامی ہسپتال میں کام کرنے والی خاتون زبیدہ نے بتایا کہ ’ انھیں مندر آتے ہوئے کوئی خوف محسوس نہیں ہوا بلکہ آج تو دیوالی ہے خوف کس بات کا‘۔

انہوں نے کہا کہ وہ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کے انتہائی شکرگزار ہیں کہ جن کے حکم پر مندر کے دروازے ہندو کمیونٹی کے سب لوگوں کےلیے کھول دیئے گئے ہیں۔

انہوں نے کہ ان کے باپ دادا اس مندر میں پوجا پاٹ کرتے رہے ہیں اسی وجہ سے یہاں آکر انھیں آج انتہائی خوشی محسوس ہو رہی ہے۔

ڈیڑہ سو سال پرانی اس عمارت کے اندرونی حصے میں تین مندر ہیں جن میں شیوا مندر، ماتا شیراں والی اور بابا گوروگورکھ ناتھ کا مندر شامل ہے۔ تاہم یہ جگہ بابا گوروگورکھ ناتھ کے نام سے منسوب ہے۔

Image caption مندر کا باقاعدہ افتتاح ہندو کمیونٹی کی نوے سالہ بزرگ خاتون پھول وتی نے کیا۔

مندر کا باقاعدہ افتتاح ہندو کمیونٹی کی نوے سالہ بزرگ خاتون پھول وتی نے کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ پھول وتی کا خاندان برسوں سے اس مندر کی نگہداشت پر مامور ہے۔

مندر کے کھولنے کےلیے دائر کی گئی رٹ درخواست بھی پھول وتی کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔

پھول وتی کے صاحبزادے کاکا رام نے بتایا کہ پاکستان کی آزادی سے قبل ان کے والد کمو رام اس مندر میں پنڈت تھے اور یہ ساری جگہ ان کی ملکیت تھی۔ انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ پہلے اس عمارت پر پولیس نے قبضہ کرلیا تھا اور انھیں تسلی دی گئی کہ مرمت کے بعد مندر ان کے حوالے کردیا جائے گا لیکن پھر ایسا نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بعد میں مجبوراً ہندو برادری نے عدالت کا دروازہ کھٹکٹھایا اور فیصلہ ان کے حق میں ہوا۔

کاکا رام نے مزید بتایا کہ عدالت کے حکم پر مندر کو کھول تو دیا گیا ہے لیکن بدستور مشکلات موجود ہیں اور صوبائی حکومت کے بعض ادارے مندر کی ملکیت کے حوالے سے ان کےلیے مسائل پیدا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ آثار قدیمہ اور دیگر اداروں کی کوشش ہے کہ عمارت کی ملکیت ان کے پاس رہے۔ ان کے مطابق مقامی ہندؤوں کو بتایا گیا ہے کہ جب وہ عبادت کریں گے تو مندر ان کےلیے کھول دیا جائے گا ورنہ بند رہے گا۔

اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور تقریب کے کوریج کےلیے اسلام آباد سے میڈیا کی خصوصی ٹیمیں پشاور آئی تھیں۔

اسی بارے میں