بلوچستان: لوڈشیڈنگ کے خلاف واپڈا کو نوٹس

تصویر کے کاپی رائٹ RIA Novosti
Image caption واپڈا نے اس سال بلوچستان میں سولہ سے بیس گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری رکھا

بلوچستان ہائی کورٹ نے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف واپڈا حکام کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔

بلوچستان میں مسلسل لوڈشیڈنگ کے خلاف تربت سے تعلق رکھنے والے وکیل چاکر بلوچ ایڈوکیٹ نے بلوچستان ہائی کورٹ میں درخواست دائرکی جس پر عدالت نے واپڈا سے وضاحت طلب کر لی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق بلوچستان میں طویل لوشیڈنگ کی وجہ سے صنعت اور زراعت کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے جس کے خلاف کئی بار احتجاج بھی ہوا ہے۔

چاکر بلوچ ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ مکران ڈویژن کے لیے ایران سے اس وقت تینتیس میگاواٹ بجلی فراہم کی جا رہی ہے جبکہ وہاں چھپن میگاواٹ بجلی کی ضرورت ہے۔

ان کے مطابق بجلی کی کمی پر قابو پانے کے لیے نہ صرف بلوچستان کے سب سے بڑے میرانی ڈیم پرہائیڈرو ٹربائن لگانے کے ساتھ ساتھ پسنی اور پنجگور میں لگے ہوئے پاور ہاوسز کے جنریٹرز کو بھی استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔

لوڈشیڈنگ کے مکمل خاتمے کے لیے بلوچستان کو اس وقت چودہ سو پینتالیس میگاواٹ بجلی کی ضرورت ہے جبکہ واپڈا کی جانب سے صوبے کے تیس اضلاع کوصرف سات سواکیس میگاواٹ بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔

بجلی کی سات سو چوبیس میگاواٹ قلت کی وجہ سے واپڈا نے اس سال صوبے کے دیہی علاقوں میں سولہ سے بیس جبکہ شہری علاقوں میں چار سے آٹھ گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ جس کے نتیجے میں یہاں کی صنعت اور زراعت کو بڑے پیمانے پرنقصان پہنچا ہے۔

بلوچستان زمیندار ایکشن کمیٹی کے جنرل سیکرٹری عبدالرحمان بازئی نے لوڈ شیڈنگ سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں بی بی سی کو بتایا کہ رواں سال نہ صرف زمینداروں کو تین ارب روپے کا نقصان ہوا بلکہ ملکی منڈی میں سبزیوں اور میواجات کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ سبزیوں اور میواجات کی قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ بلوچستان میں جاری بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ بھی ہے۔

صو بے میں طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف زمینداروں اور سیاسی جماعتوں نے کئی بار احتجاج بھی کیا ہے۔

اس سلسلے میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے نہ صرف بلوچستان اسمبلی کا گھیراؤ کیا تھا بلکہ کوئٹہ سمیت صوبے کے پشتون علاقوں میں مظاہرے بھی کیے تھے۔جس پر وزیرِاعظم سید یوسف رضا گیلانی نے نہ صرف نئی ٹرانسمیشن لائن بچھانے کا اعلان کیا تھا بلکہ حکومت نے ایران سے ایک ہزار میگا واٹ بجلی خریدنے کے ایک معاہدے پر دستخط کیے لیکن ابھی تک اس منصوبے پر کام شروع نہیں ہوسکا ہے۔

کوئٹہ میں کیسکو حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے ایران سے ایک ہزار میگاواٹ بجلی حاصل کرنے کا معاہدہ ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ ژوب، ڈی آئی خان اور گدو خضدار میں نئی ٹرانسمیشن لائن پر کام جاری ہے اور امکان ہے کہ آئندہ دو تین برس میں یہ کام مکمل ہوجائے گا۔

اسی بارے میں