وفاقی حکومت مشرف کو واپس لائے: عدالت

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption نواب اکبر بگٹی 2006 اگست میں ایک فوجی آپریشن میں ہلاک ہوئے تھے

بلوچستان ہائی کورٹ نے نواب محمد اکبر خان بگٹی قتل کیس پر وفاقی حکومت کو حکم دیا ہے کہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف سمیت بیرون ملک مقیم دیگر ملزمان کو ملک لایا جائے اور ملک میں موجود نامزد ملزمان کو فوری طور پرگرفتار کیا جائے ۔

بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس عبدالقادر مینگل پر مشتمل ڈویژنل بینچ نے یہ حکم منگل کو نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی کی جانب سے اپنے والد سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اکبر خان بگٹی کے قتل کیس کی تحقیقات میں سست روی سے متعلق دائر آئینی درخواست نمٹاتے ہوئے دیا۔

سماعت کے دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل ملک سکندر ایڈووکیٹ ، ایڈووکیٹ جنرل امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ ، کرائمز برانچ کے حکام سمیت نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی کے وکلاء ہادی شکیل احمد ایڈووکیٹ ، بیرسٹر سیف اللہ مگسی ، بیرسٹر عدنان کاسی، سہیل احمد راجپوت ایڈووکیٹ پیش ہوئے ۔

نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق سماعت کے دوران عدالت میں سابق وزیراعظم شوکت عزیز کاایک خط بھی پیش کیا گیا جس میں ان کا موقف تھا کہ نواب اکبر بگٹی کے خلاف آپریشن اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف پرویز مشرف کی جانب سے کیا گیا تھا ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔

اس موقع پرسابق وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد شیر پاؤ کا بیان بھی پڑھ کر سنایا گیا جس میں بھی یہ کہا گیا تھا کہ انہیں نواب اکبر بگٹی کے خلاف ہونے والے آپریشن کا علم نہیں تھا۔ انہیں بعد میں معلوم ہوا کہ نواب بگٹی 26 اور 27 اگست 2006 کی درمیانی شب کو تاراتانی غار میں ہلاک ہوگئے۔

سماعت کے دوران جوڈیشل مجسٹریٹ کوئٹہ فیصل حمید کی جانب سے کرائمز برانچ کی درخواست پر صدر جنرل پرویز مشرف اور سابق وزیراعظم شوکت عزیز کے جاری کیے گئے وارنٹ گرفتاری بھی پیش کیےگئے ۔

عدالت نےحکم دیا کہ فوری طور پر نواب اکبر خان بگٹی قتل کیس میں ملوث بیرون ملک مقیم ملزمان جنرل پرویز مشرف ، وزیراعظم شوکت عزیز او ردیگر کو ملک واپس لایا جائے کیونکہ ملزمان کی حوالگی کے حوالے سے انیس سو بہتر میں کئے گئے معاہدے کے آرٹیکل پندرہ کے تحت یہ حکومت کی ذمہ داری ہے ۔

نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی کے وکلاءکی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ سابق صوبائی وزیر داخلہ اور موجودہ رکن صوبائی اسمبلی شعیب نوشیروانی نے حالیہ سینٹ کے انتخابات میں پولیس اور دیگر فورسز کی موجودگی میں بلوچستان اسمبلی آ کر ووٹ کاسٹ کیا لیکن کسی اس کو گرفتار نہیں کیا گیا جس پر عدالت نے حکم دیا کہ جو نامزد ملزمان ملک کے اندر موجود ہیں انہیں فوری طور پر گرفتار کیا جائے ۔

تفتیشی ٹیم کےافسران اور حکومت بلوچستان کو یہ بھی ہدایت کی گئی کہ وہ تحقیقات جلد از جلد مکمل کرکے چالان مجاز عدالت میں جمع کرائیں۔

عدالت نے آئینی درخواست نمٹاتے ہوئے یہ بھی حکم دیا کہ ڈیرہ بگٹی اور کوہلو میں آپریشن اور نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے وقت کابینہ اور دیگر اعلیٰ سطحی اجلاسوں کے تمام منٹس کو تحویل میں لیا جائے تاکہ ان سے بھی مدد لی جاسکے ۔

سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ وہ ممالک جن کے ساتھ پاکستان کے مختلف جرائم میں ملوث افراد کی حوالگی کے متعلق معاہدے نہیں ہے انہیں بھی ملزمان کو پاکستان کے حوالے کرنے کی درخواست کی جاسکتی ہے۔ عدالت نے تحقیقاتی عمل میں تمام سول اور ملٹری اتھارٹیز سے بھی تفتیش کی ہدایت کی ہے ۔

اسی بارے میں