’شفافیت نہیں تو رینٹل پاور منصوبے نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عدالت کابینہ کے کسی بھی ایسے فیصلوں کو تسلیم نہیں کرسکتی جو ماورائے قانون کیے گئے ہوں: چیف جسٹس

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا ہے کہ جن کرائے کے بجلی گھروں کے منصوبوں میں شفافیت نہیں ہوگی انہیں سپریم کورٹ منسوخ کر دے گی۔

یہ ریمارکس انہوں نے منگل کے روز کرائے کے بجلی گھروں کے معاہدوں میں مبینہ بدعنوانی سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران دیے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ غیر قانونی منصوبوں کی کابینہ سے منظوری کا ہر گز مطلب نہیں ہے کہ یہ قانونی ہو جاتے ہیں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت کابینہ کے کسی بھی ایسے فیصلے کو تسلیم نہیں کرسکتی جو ماورائے قانون کیے گئے ہوں۔

اُنہوں نے کہا کہ پانچ منصوبے جو کابینہ کی منظوری کے بعد جاری کیے گئے اُن کے اخبارات میں ٹینڈر نہیں دیے گئے تھے اور بادی النظر میں ان منصوبوں کے معاہدوں میں شفافیت نظر نہیں آتی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اشتہار کے بغیر دیے گئے منصوبے قواعد وضوابط کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ جو منصوبے وفاقی کابینہ کی منطوری کے بعد جاری کیے گئے اُن میں نوڈیرو ون ّ نوڈیرہ ٹو ، ٹیکنو ای پاور اور عباس سٹیل شامل ہیں۔

افتخار محمد چوہدری کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر کارروائی کا حکم دیا تو اُس کے خلاف کارروائی کرنے کی بجائے اُسے ترقی دی گئی۔

پانی و بجلی کی وزارت کے وکیل خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ عدالت نے اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے یعنی سی ڈی اے کے سابق چیئرمین کے خلاف قواعدو ضوابط کی خلاف ورزی کرنے پر کارروائی کا حکم دیا تو ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے وفاقی وزیر فیصل صالح حیات نے اُنہیں اپنی وزارت میں سیکرٹری تعینات کروا دیا۔

یاد رہے کہ فیصل صالح حیات نے کرائے کے بجلی گھروں میں ہونے والی مبینہ بدعنوانی کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست بھی دائر کر رکھی ہے جس میں نجی پاور کمپنیوں سے ہونے والے ان معاہدوں میں پانی و بجلی کے سابق وفاقی وزیر راجہ پرویز اشرف پر مبینہ طور پر کروڑوں روپے رشوت لینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

راجہ پرویز اشرف ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ اس ازخودنوٹس اور درخواستوں کی سماعت بدھ کے روز تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔

اسی بارے میں