لاہور: عدالتی فیصلے کے خلاف احتجاج

Image caption انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے چھ مزدور رہنماؤں کو چھالیس چھالیس برس قید اور جرمانے کی سزا سنائی ہے

مزدور تنظیموں نے پنجاب کی ایک عدالت کی طرف سے چھ مزدور رہنماؤں کو چھیالیس چھیالیس برس قید اور لگ بھگ اڑھائی اڑھائی لاکھ جرمانے کی سزا سنانے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔

مظاہرین نے چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار چودھری سے مطالبہ کیا کہ وہ مزدوروں کے خلاف عدالتی فیصلے کا نوٹس لیں۔

انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے چھ مزدور رہنماؤں کو احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ، اقدام قتل اور دیگر الزامات میں چھیالیس چھیالیس برس قید اور جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

پاور لومز میں کام کرنے والے مزدوروں نے فیصل آباد میں اپنی اجرت میں حکومتی اعلان کے مطابق اضافے نہ کرنے کے خلاف گزشتہ سال جولائی میں احتجاج کیا تھا۔

احتجاج میں مختلف فیکڑیوں میں کام کرنے والے مزدوروں اور پولیس کے درمیان چھڑپیں ہوئی تھیں۔

جس کے بعد ایک مقامی فیکڑی مالک نے مزدور رہنماؤں کےخلاف مقدمہ درج کرایا اور ایک سال سے زائد عرصہ تک مقدمہ کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے چھ مختلف دفعات میں سے چار دفعات پر دس دس سال اور دو دفعات پر چھ، چھ برس قید کی سزا سنائی ہے۔

لیبر پارٹی کی قیادت میں مزدور تنظیموں نے لاہور ہائی کورٹ کی عمارت کے باہر دیگر مزدور تنظیموں نے احتجاج کیا اور جی پی او چوک سے سیٹیٹ بینک تک ایک ریلی بھی نکالی۔

مظاہرین نے جو کتبے اٹھا ہوئے تھے ان پر ’ ہڑتال ہمارا حق ہے دہشتگردی نہیں‘ اور’ کیا تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ دہشتگردی ہے‘ جیسی عبارتیں درج تھیں۔

احتجاج میں شامل مزدوروں نے پنجاب حکومت اور عدالتی فیصلے کے خلاف بھی نعرے لگائے۔

احتجاج کے اختتام پر لیبر پارٹی کے رہنماء فاروق طارق نے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ مزدوروں کے خلاف انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے فیصلے کا نوٹس لیں۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنا کوئی دہشتگردی نہیں اور اپنے حقوق کے لیے احتجاج کرنے ہر مزدور اور شہری کا آئینی حق ہے ۔

لیبر پارٹی کے رہنما فاروق طارق نے اعلان کیا کہ عدالتی فیصلے کے بعد مزدور تنظیموں کا اجلاس بدھ کو فیصل آباد میں ہو رہا ہے اور مزدور رہنماؤں کو ملنے والی سزا کے خلاف اپیل دائر کی جائے گی۔

لیبر قومی موومنٹ کے چیئرمین میاں قیوم نے بی بی سی کو بتایا کہ سزا پانے والے چھ مزدور رہنماؤں کے خلاف مقدمے کی کارروائی ڈسٹرکٹ وسیشن جج کی عدالت میں ہوئی تاہم بعدازں اس مقدمہ میں انسداد دہشتگردی ایکٹ کی شق بھی شامل کردی گئی جس کے بعد یہ مقدمہ انسداد دہشتگردی کی عدالت میں منتقل کردیا گیا۔

میاں قیوم کے مطابق مقدمہ میں انسداد دہشتگردی ایکٹ کی شق شامل کرنے کے اقدام کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیاگیا اور ابھی اس بابت درخواست پر فیصلہ ہونا تھا لیکن اعلیْ عدالت کے فیصلے سے پہلے ہی انسداد دہشتگردی کی عدالت نے چھ مزدور رہنماؤں کو سزائیں سنا دیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق انسداد دہشتگردی کے فیصلے کے خلاف سات دنوں میں متعلقہ ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے اپیل دائر کی جاسکتی ہے۔