کرم: چیک پوسٹ پر حملہ، ایک اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ابھی تک کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر ہونے والے ایک حملے ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ہیں۔

پشاور میں فرنٹیئر کور کے ایک ترجمان نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ یہ حملہ جمعرات کی صبح لوئر کرم ایجنسی کے علاقے خار کلی میں پیش آیا۔

انہوں نے کہا کہ مسلح شدت پسندوں نے ٹل پارہ چنار مرکزی شاہراہ پر قائم سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا جس سے ایک لیوی اہلکار ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے۔

ابھی تک کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

خیال رہے کہ یہ حملہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب چند دن قبل ہی ٹل پارہ چنار شاہراہ کو مری امن معاہدے کے تحت تقریباً چار سال کے بعد عام ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا تھا۔

اس سے پہلے بھی اس اہم شاہراہ کو تین مرتبہ کھولا جا چکا ہے لیکن شدت پسندوں کی طرف سے گاڑیوں پر حملے اور اغواء کے وارداتوں کے بعد سڑک دوبارہ غیر اعلانیہ طور پر بند ہوتی رہتی ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حالیہ حملہ بھی موجود مری معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے لیے کیا گیا ہے تا کہ شاہراہ کو ایک مرتبہ پھر عام ٹریفک کے لیے بند کر دیا جائے۔

ادھر یہ اطلاعات بھی ہیں کہ اپر کرم ایجنسی کے علاقے پیواڑ میں فریقین نے ایک دوسرے کے علاقوں پر میزائل حملے کیے ہیں تاہم کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

اسی بارے میں