کراچی میں کھالیں جمع کرنے کی دوڑ شروع ہو گئی

ضابطۂ اخلاق تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption صوبائی محکمۂ داخلہ کی جانب سے اخبارات میں اشتہار شایع کرائے گئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ قربانی کی کھال حق دار تک پہنچانا بھی شرعی فریضہ ہے۔

کراچی کی شاہراہیں عید قربان قریب آتے ہی ان سیاسی، مذہبی، جہادی تنظیموں اور خیراتی اداروں کے بینروں سے سج گئی ہیں جن میں لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ چرم قربان یعنی قربانی کی کھالیں ان کو دی جائیں۔

ماضی میں قربانی کی کھالوں پر سیاسی اور مذہبی جماعتوں میں تصادم ہوتے رہے ہیں، پچھلے دنوں کی خونریزی اور سپریم کورٹ کی جانب سے اس خون ریزی کا از خود نوٹس کے بعد حکومت کافی محتاط نظر آتی ہے۔

صوبائی حکومت کی جانب سے ہر سال عید قربان کے موقعے پر کھالیں اکٹھا کرنے کے لیے ضابطۂ اخلاق جاری کیا جاتا ہے مگر ہر سال اس کی خلاف ورزی کی شکایات سامنے آتی ہیں۔

کراچی کی شہری حکومت کو ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ کھالیں وصول کرنے والی تنظیموں کو اجازت نامے جاری کرے اور اس کے لیے تمام تنظیموں اور اداروں کو رجسٹرڈ کیا جائے گا۔

اس سال گورنر ہاؤس، شہری حکومت، صوبائی وزرات داخلہ اور پولیس اپنے اپنے طور پر قربانی کی کھالوں کی نگرانی کریں گے۔

صوبائی محکمۂ داخلہ کی جانب سے اخبارات میں اس حوالے سے تشہیر کی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ’ قربانی کی کھال حق دار تک پہنچانا بھی شرعی فریضہ ہے‘۔

کھالیں جمع کرنے والی تنظیموں اور اداروں کو یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کیا جائے، تنظیمیں یا کسی ادارے کے کارکن جب ایک جگہ سے دوسری جگہ کھالیں منتقل کریں تو ان کے پاس اپنا قومی شناختی کارڈ اور محکمۂ داخلہ یا شہری حکومت سے حاصل کیے گئے اجازت نامے کی نقل موجود ہونی چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption متحدہ قومی موومنٹ کا فلاحی ادارہ خدمت خلق فاؤنڈیشن کھالیں جمع کرنے میں سب سے زیادہ سرگرم رہتا ہے اور شہر کے تقریباً ہر علاقے میں اس کے بینر نظر آتے ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ کا فلاحی ادارہ خدمت خلق فاؤنڈیشن کھالیں جمع کرنے میں سب سے زیادہ سرگرم رہتا ہے اور شہر کے تقریباً ہر علاقے میں اس کے بینر نظر آتے ہیں۔ اس ادارے کی نگرانی سابق سٹی ناظم مصطفیٰ کمال کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ کھالوں سے حاصل ہونے والی رقم یتیم لڑکیوں کی شادی، غریبوں کی کفالت، مفت علاج اور تعلیم کی سہولیات پر خرچ کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک تاثر ہے کہ کراچی میں کھالیں جمع کرنے پر چھینا جھپٹی ہوتی ہے، اگر پچھلے چار پانچ سالوں کا ریکارڈ دیکھا جائے تو اس میں کافی کمی ہوئی ہے پچھلے سال تو اخبارات نے اس کو رپورٹ تک نہیں کیا۔

’جس شہر میں بہت سارے جرائم پیشہ عناصر ہوں اور بہت گروہ سرگرم ہوں وہ بھی اس موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوں گے، شہر میں جو سیاسی جماعتیں ہیں ان پر بھی اس کے اثرات ہوتے ہوں گے، تاہم ایم کیو ایم کو لوگ خوشی سے کھالیں دیتے ہیں‘۔

جماعت اسلامی کا فلاحی ادارہ الخدمت فاؤنڈیشن بھی ہر سال شہر میں کھالیں جمع کرنے کے لیے کیمپ لگاتا ہے، ادارے کے صدر محمد حسین محنتی کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے انتظامات سے وہ مطمئن نہیں ہیں پہلے کی طرح دھونس زبردستی کا ماحول جاری ہے لوگوں کو پرچیاں دی جا رہی ہیں جب تک حکومت عملی اقدامات نہیں اٹھاتی کچھ نہیں ہو سکتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کی جانب سے لگائے جانے والے بینر کا عکس

گلیوں میں مدارس کے پوسٹر اور بینر بھی نظر آتے ہیں، جو کھالیں جمع کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں جب کہ مبینہ طور پر کالعدم جماعت الدعوۃ کا ادارہ فلاح انسانیت فاؤنڈیشن بھی سیلاب متاثرین اور کشمیری مہاجرین کی مدد کے لیے یہ کھالیں جمع کرنے کا خواہش مند ہے۔

کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے بھی کراچی میں کھالیں جمع کی جاتی ہیں، ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم کا کہنا ہے کہ یہ اپنے ہمدردوں سے ہی کھالیں لیتے ہیں اور لوگ انہیں نہیں دیتے، گزشتہ سال بھی انہوں نے چھ لوگوں کو گرفتار کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے کراچی میں امن امان کی نگرانی کے لیے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیٹی بنائی ہے، پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کسی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں جواب طلبی سے قبل ان کی جانب سے تمام انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں