سزا کی خبر اخبارات میں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کھلاڑیوں کو سزا دیے جانے کی خبر آج پاکستان کے سبھی انگریزی اور اردو اخبارات کی بڑی خبر ہے اور اخبارات نے اپنے اپنے انداز میں شہ سرخیاں لگائی ہیں۔

مقدمے کے چاروں ملزمان سلمان بٹ، محمد آصف، محمد عامر اور مظہرمجید کی تصویروں کے ساتھ انگریزی روزنامہ ڈان کی سرخی ہے کہ ’لندن کی عدالت نے بدعنوان کرکٹرز اور ان کے ایجنٹ کو سزا سنا دی۔‘

اسی خبر کو انگریزی رونامہ دی نیشن نے اس سرخی کے ساتھ لیا ہے ’سپاٹ فکسرز خود فکس ہوگئے۔‘

اخبار نے اس خبر کے ساتھ ہی کھلاڑیوں کے اپیل کرنے کے حق اور امکانات کے حوالے سے بھی خبر شائع کی ہے۔

سزا یافتہ کھلاڑیوں اور ان کے ایجنٹ کی تصوریوں اور سزا کی تفصیل کے ہمراہ انگریزی روزنامہ دی ایکسپریس ٹریبیون نے لکھا ہے’ٹیم کے ساتھی سے جیل کےساتھی تک‘۔

ڈیلی ٹائمز نے لفظوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے سپاٹ فکسنگ کو استعمال کرتے ہوئے سرخی بنائی ہے ’سپاٹڈ اینڈ فکسڈ‘ یعنی نشاندہی کے بعد سزا۔

پاکستان کے اردو اخباروں کی بڑی خبر بھی کرکٹرز کی سزا ہی تھی۔ روزنامہ ایکسپریس اور روز نامہ جنگ دونوں ہی کی سرخی ہے’سلمان ڈھائی، آصف ایک سال اور عامر کو چھ ماہ کی قید‘۔

تاہم دونوں اخباروں نے اس خبر سے متعلق دیگر خبریں بھی اس کے ساتھ شائع کی ہیں۔ ایکسپریس کی دیگر خبروں میں کرکٹر محمد عامر کا یہ بیان ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ’سلمان اور آصف کے بارے میں بولیں گے تو دنیا سنے گی‘ اور لاہور کی عدالت کا کرکٹرز کے خلاف پاکستان میں قانونی کارروائی کا حکم شامل ہے۔ ایک خبر یہ بھی ہے کہ ’مجرم جیل منتقل، نارنجی رنگ کا قیدیوں کا لباس پہنا دیا گیا۔‘

دوسری جانب روزنامہ جنگ نے جو خبریں شائع کی ہیں ان میں پہلے یہ خبر ہے کہ کھلاڑیوں کے درست رویے کے باعث سزا میں کمی ہو سکتی ہے۔

اس کے بعد ایکسپریس کے مطابق پاکستانی وزیرِ داخلہ رحمان ملک نے برطانیہ سے سزا کی تفصیلات مانگ لیں۔

ایک دوسری خبر میں لکھا ہے کہ سلمان بٹ اور محمد آصف کو جیل میں کام کرنا پڑے گا اور انہیں وہاں اس کا معاوضہ بھی ملے گا۔

اخبار نے کرکٹرز کو سزا پر سیاست دانوں کا ردعمل بھی شائع کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کھلاڑیوں نے ملکی عزت کو سخت نقصان پہنچایا۔

اخبارات نے کرکٹرز کے اہلخانہ کا ردعمل بھی شائع کیا ہے۔

ایکسپریس کے مطابق سلمان بٹ کی بہنیں اور والد رو پڑے، بہن کی شادی ملتوی کر دی گئی، اس کے علاوہ محمد عامر کی والدہ کا کہنا تھا کہ’ شاید عامر کی واپسی تک بچوں گی یا نہیں۔‘

ایک پاکستانی اخبار روزنامہ آج کل نے تو اس خبر میں مزید رنگ بھرتے ہوئے ایک گانے کے بول پر شہہ سرخی بنائی ہے۔ کھلاڑیوں کو کل کا ہیرو اور آج کا ولن قرار دیتے ہوئے اخبار نے لکھا ہے ’سجناں نُوں قید بول گئی‘۔

اس کے ساتھ ساتھ اخبار نے پاکستان کرکٹ بورڈ کا مذمتی بیان بھی چھاپہ ہے۔