سندھ میں بلدیاتی نظام پر اختلافات برقرار

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان پیپلزپارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ صوبہ سندھ میں بلدیاتی نظام کی تشکیل پر متفق نہیں ہوسکی ہیں۔

سنیچر کے روز کراچی میں پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم کی بلدیاتی نظام کی تشکیل پر مزاکرات کے لیے قائم کی گئی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس کے اختتام پر ایک مشترکہ پریس کانفرنس بھی منعقد کی گئی۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی اور سندھ کے وزیرِ صحت ڈاکٹر صغیر احمد نے کہا کہ اس معاملے کو ایم کیو ایم نے اپنی انا کا مسئلہ نہیں بنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے بھی اس معاملے پر وسیع القلبی کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم بھائٰی چارے کو قائم رکھنا چاہتی ہے اور اس نے کوئی ایسی شرط نہیں رکھی جس سے جمہوریت دشمن قوتیں فائدہ اٹھا سکیں۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کےپیرمظہرالحق نے کہا کہ تمام امور پاکستان کے آئین و قانون کے مطابق حل کیے جائیں گے انہوں نے ایم کیو ایم کی قیادت اور اراکین کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نیا قانون بنا رہے ہیں اور ہم سندھ کے عوام کو مایوس نہیں کریں گے۔

یاد رہے کہ سندھ میں بلدیاتی نظام کے معاملے پر ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی میں طویل عرصے سے اختلاف پائے جاتے ہیں اور اس مسئلے پر ایم کیو ایم حکومت سے ایک مرتبہ علیحدہ بھی ہوچکی ہے۔ مزاکرات کے لیے ایم کیو ایم کی جانب سے ڈاکٹر صغیر احمد ، سردار احمد ، واسع جلیل ، وسیم اختر اور قمر نوید جبکہ پیپلزپارٹی کی جانب سے پیر مظہرالحق ، آغا سراج درانی ، ایاز سومرو اور رفیق انجینئر شریک تھے۔

مگر اس ساری رونمائی کے درپردہ مسائل کیا ہیں اور اس وقت صوبہ سندھ میں کونسا نظام رائج ہے اس کا جواب نہ تو پیر مظہر الحق کے پاس تھا اور نہ ہی ڈاکٹر صغیر احمد کے پاس۔

نامہ نگار حسن کاظمی کے مطابق پریس کانفرنس میں اعلان کیا گیا کہ عید الاضحٰی کےبعد نئے نظام کافیصلہ ہوجائےگا مگر صحافیوں کے بار بار پوچھنے کے باوجود ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی نے اس سوال کاجواب نہیں دیا کہ اس وقت سندھ میں کمشنری نظام رائج ہے یا ڈسٹرکٹ کوآرڈینشن کا نظام ہے یا پھر آئندہ کون سا نظام ہوگا۔

یاد رہے کہ جولائی میں ایم کیو ایم کے سندھ حکومت سے علیحدہ ہونے کے بعد پیپلزپارٹی نے سندھ اسمبلی میں کثرتِ رائے سے کمشنری نظام بحال کرنے کا بِل منظور کرلیا تھا جس کے بعد ایم کیو ایم کی جانب سے شدید احتجاج ہوا اور پھر گورنر سندھ نے اگست کے آغاز میں ایک آرڈینینس کے ذریعے دوہزار ایک کا مقامی حکومتوں کا نظام بحال کردیا مگر اس آر ڈینینس کی مدت بھی جمعے کی شب بارہ بجے ختم ہوچکی ہے۔

اطلاعات کےمطابق اس بات کا قوی امکان ہے کہ گورنر سندھ کی جانب سے ایک آرڈینینس کے ذریعے ایک عبوری نظام نافذ کیا جائے گا مگر اس بات کی ابھی تک سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

اسی بارے میں