صوابی: خودکش حملے میں سابق ناظم ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption صوبہ خیبر پختونخواہ میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی ہے تاہم اہم شخصیات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

پاکستان میں صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں سابق تحصیل ناظم کے گاڑی پر ایک خودکُش حملے میں ناظم حنیف جدون سمیت دو افراد ہلاک جبکہ تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔

صوابی میں پولیس اہلکار ندیم خان نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا کہ عیدالاضحی کے موقع پر صوابی سے تقریباً تیس کلومیٹر دور جنوب مشرق کی جانب تحصیل گدون آحمدزئی میں سابق تحصیل ناظم حنیف جدون پر اس وقت ایک خودکُش حملہ ہوا جب وہ نماز عید کے بعد اپنے گھر واپس جارہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ خودکُش حملے میں سابق ناظم حنیف جدون اور ان کا محافظ ہلاک جبکہ ان کے بیٹے سمیت تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔اہلکار کے مطابق زخمیوں کو صوابی ضلعی ہسپتال منتقل کردیاگیا ہے جن میں بعض کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

پولیس اہلکار نے مذید بتایا کہ یہ خود کش حملہ آور پیدل تھا جو سابق ناظم کے گھر کے راستے میں سڑک کے کنارے جھاڑیوں میں چُھپا ہوا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ خودکُش حملہ آور نے اس وقت دھماکہ کر دیا جب سابق ناظم کی گاڑی جھاڑیوں کے قریب سے بارانی نالے میں سے گزر رہی تھی۔

ایک اور پولیس اہلکار نے بتایا کہ دھماکے کے بعد گاڑی میں معمولی سی آگ لگ گئی تھی جس سے گاڑی کو بھی نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے بتایا کہ خودکُش حملہ آور کے اعضاء اکھٹے کیے گئے ہیں تاہم یہ بُری طرح جُھلس گئے ہیں جس کی وجہ سے اس کی شناخت نہیں کی جاسکتی۔

یادرہے کہ سابق ناظم کا تعلق عوامی نشنل پارٹی سے تھا اور حال ہی میں ان کو تحصیل گدون احمدزئی سے عوامی نیشنل پارٹی کا صدر مقرر کیا تھا۔

اس واقعہ کی ابھی تک کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن اس سے پہلے عوامی نشنل پارٹی کے اہلکاروں پر جتنے بھی حملے ہوئے ہیں ان کی ذمہ درای تحریک طالبان نے قبول کی تھی۔

اسی بارے میں