مہمند ایجنسی: لڑکیوں کا سکول تباہ

سکول
Image caption مہمند ایجنسی میں تین سال کے بعد سکول دوبارہ کھلنا شروع ہوئے تھے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں حکام کے مطابق لڑکیوں کے ایک پرائمری سکول کو دھماکے سے تباہ کر دیا گیا ہے اور خیبر ایجنسی میں مکان پر گولہ گرنے سے ایک بچہ ہلاک جبکہ ایک خاتون زخمی ہوگئی ہے۔

مہمند ایجنسی میں ایک سرکاری اہلکار نے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا کہ صدر مقام غلنئی سے کوئی پانچ کلومیٹر دور مغرب کی جانب تحصیل علیمزئی میں بدھ اور جمعرات کے درمیانی رات نامعلوم افراد نے لڑکیوں کے ایک پرائمری سکول کو دھماکے سے اڑا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نامعلوم شدت پسندوں نے سکول میں دو دھماکے کیے ہیں جس سے سکول کے تین کمرے اور چاردیواری مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے۔ اہلکار کے مطابق یہ سکول میاں منڈی بازار کے بالکل قریب واقع ہے اور اس سے پہلے اس علاقے میں اس طرح کے واقعات بہت کم پیش آئے ہیں۔

تحریک طالبان مہمند ایجنسی کے کمانڈر عمر خالد کے معاون مکرم خراسانی نے بی بی سی کو ٹیلی فون کرکے اس دھماکے کے ذمہ داری قبول کی ہے۔

سرکاری اعداد و شُمار کے مطابق مہمند ایجنسی میں اب تک ایک سو کے قریب سکولوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے مہمند ایجنسی میں سکولوں کو تباہ کرنے کے واقعات کے بعد سینکڑوں طلباء و طالبات تعلیم کے حصول سے محروم ہوگئے ہیں۔

اس کے علاوہ خیبر ایجنسی میں حکام کے مطابق ایک مکان پر گولہ گرنے سے ایک بچہ ہلاک جبکہ خاتون شدید زخمی ہوگئی ہے۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق تحصیل باڑہ میں شہر سے کوئی تین کلومیٹر دور مغرب کی جانب ملک دین خیال میں بادشاہ خان نامی شخص کے مکان پر ایک گولہ گرا ہے۔ جس کے نتیجے میں ایک بچہ ہلاک جبکہ ایک خاتون شدید زخمی ہوگئی ہے۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق زخمی خاتون کو حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں داخل کرائی گئی ہے۔ جہاں ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت تشویش ناک ہے اور وہ کومے میں چلی گئی ہے۔

اسی بارے میں