’وزراءِ اعظم کے درمیان بات چیت مثبت رہی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے مالدیپ میں پاکستانی اور بھارتی وزراءِ اعظم کے درمیان بات چیت کو مثبت قرار دیا ہے۔

دفترِ حارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ مالدیپ میں پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ کے درمیان بات چیت سے رابطوں کو مزید فروغ حاصل ہوا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب معاملات کے نتیجہ خیز حل کے لیے بات چیت کی جائے گی۔

دفترِ خارجہ کی جانب سے وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کے اس بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کی جانب سے ملاقاتوں کے شیڈول کو بھی طے کرنے پر رضامندی ظاہر کی گئی ہے۔

بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق رائے کیا گیا ہے کہ پاک بھارت جوائنٹ کمیشن پر پہلے ٹیکنیکل ورکنگ گروپس کے اجلاس بھی بلائے جائیں گے۔

واضح رہے کہ مالدیپ میں سارک سربراہی اجلاس کےدوران ملاقات میں بھارت اور پاکستان کے وزراء اعظم نے کہا تھا کہ باہمی تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے مذاکرات کے آئندہ دور میں وہ ٹھوس پیش رفت دیکھنا چاہتے ہیں۔

پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہنا تھا کہ ’باہمی مذاکرات کے آئندہ دور سے دونوں ملکوں کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہوگا‘۔

مذاکرات کے بعد دونوں رہنماؤں نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا جس میں بھارتی وزیر اعظم نے کہا کہ ’دونوں ملک الزام تراشی میں پہلے ہی بہت وقت ضائع کر چکے ہیں اور مجھے خوشی ہے کہ وزیر اعظم گیلانی اس بات سے پوری طرح اتفاق کرتے ہیں کہ اب تعلقات کے ایک نئے باب کا آغاز کرنے کا وقت آگیا ہے اور بات چیت کے اگلا دور زیادہ نتیجہ خیز ہونا چاہیےتاکہ دونوں ملک ایک دوسرے کے اتنا قریب آسکیں جتنا پہلے کبھی نہیں تھے۔‘

پاکستانی وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا تھا کہ دونوں رہنماؤں نے پانی، دہشت گردی، کشمیر، سرکریک، سیاچن اور تجارت جیسے تمام کلیدی معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔

اسی بارے میں