چکوال:’ایم آئی اہلکاروں سمیت نو ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سرکاری اہلکاروں کو چھڑانے کے لیے سنیچر کے روز مقامی پولیس کے ساتھ مل کر آپریشن کیا گیا

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلح چکوال کے علاقے پِنڈ دادن خان میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق شدت پسندوں نے فوجی آپریشن میں ملٹری انٹیلیجنس یعنی ایم آئی کے چار اہلکاروں کو ہلاک کر دیا ہے جبکہ جوابی کارروائی میں پانچ شدت پسند بھی مارے گئے ہیں۔

ہلاک ہونے والے ملٹری انٹیلیجنس کے اہلکاروں کے رینک کے بارے میں سکیورٹی ذرائع نے کچھ نہیں بتایا۔

دوسری جانب وفاقی وزیرِداخلہ رحمان ملک نے بی بی سی کو بتایا کہ خفیہ اداروں کو اطلاع ملی تھی کہ اس علاقے میں کالعدم تنظمیوں اور جرائم پیشہ عناصر نے پناہ لے رکھی ہے جس پر ان کے خلاف کارروائی کی گئی۔

اُنہوں نے کہا کہ اس آپریشن میں ہلاک ہونے والوں کے بارے میں بہت جلد میڈیا کو آگاہ کریں گے۔

سکیورٹی کے ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ شدت پسندوں کے خلاف یہ کارروائی پولیس اور دیگر قانون نافد کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کی گئی۔

انٹیلیجنس کے ذرائع کے مطابق شدت پسندوں نے ملٹری اٹنیلیجنس کے چار اہلکاروں کو چند روز قبل اغواء کرلیا تھا اور خفیہ اداروں کی اطلاعات کے مطابق اغواء کاروں نے ان افراد کو پیر چمبل کی پہاڑیوں میں چھپا کر رکھا تھا۔

ذرائع کے مطابق شدت پسندوں کی جانب سے مبینہ طور پر ان چار اہلکاروں کی رہائی کے بدلے میں ان بیس سے زائد اہم ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا جنہیں قبائلی علاقوں میں آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

ان سرکاری اہلکاروں کو چھڑانے کے لیے سنیچر کے روز مقامی پولیس کے ساتھ مل کر آپریشن کیا گیا جس میں پانچ شدت پسند اور ایم آئی کے چار اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

سکیورٹی کے ذرائع اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ ایم آئی کے اہلکاروں کو اغواء کیا گیا تھا بلکہ وہ اس آپریشن میں حصہ لے رہے تھے جب وہ شدت پسندوں کی گولیوں کا نشانہ بنے۔

پولیس اور سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں پانچ شدت پسندوں کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاعات ہیں ان میں پولیس کے بقول کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے جرائم پیشہ افراد بھی شامل ہیں تاہم ان افراد کی لاشیں کسی بھی مقامی ہسپتال میں نہیں لائی گئیں۔

اس کارروائی کے دوران علاقے کو مکمل طور پر سیل کردیا گیا تھا جبکہ پولیس اور سکیورٹی اہلکار بھی اس کارروائی کے بارے میں مقامی میڈیا کو کوئی اطلاع نہیں دے رہے تھے۔

یاد رہے کہ پاکستانی فوج قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں مصروف ہے اور پہلی مرتبہ پنجاب کے علاقے میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔

چند روز پہلے خفیہ اداروں نے وزارتِ داخلہ کو رپورٹ بھیجی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ سنگین وارداتوں میں اشتہاری قرار دیے گیے افراد کی اکثریت نے قبائلی علاقوں میں پناہ لے رکھی ہے اور اطلاعات کے مطابق یہ افراد کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان اور دیگر تنظیموں میں شمولیت اختیار کرچکے ہیں۔

اسی بارے میں