پاکستان، ’ذیابیطس سے ستر لاکھ افراد متاثر‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انٹرنیشنل ڈائیبٹیس فیڈریشن کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں چھتیس کروڑ سے زیادہ افراد ذیابطیس سے متاثر ہیں جبکہ ہر سال چھیالیس لاکھ لوگ اس مرض کی وجہ سے مرتے ہیں

اقوام متحدہ کے ادارے ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق ستر لاکھ افراد ذیابیطس کے مرض سے متاثر ہیں۔

ذیابیطس کے عالمی دن کے موقع پر صحت کے بارے میں ادارے نے خبردار کیا ہے کہ 2025 تک ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد دگنی ہوسکتی ہے۔

اسلام آباد سے نامہ نگار ذوالفقارعلی کے مطابق پاکستان میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائیزیشن یعنی ڈبلیو ایچ او کے عہدیدار ڈاکڑ خضر توصیف اشرف نے کہا ’پاکستان میں ذیابیطس کے مرض میں اضافے کی اہم وجوہات یہ ہیں کہ لوگوں میں واک اور جسمانی ورزش کی عادت ختم ہوتی جارہی ہے، جنک فوڈ، غیر متوازن اور غیر صحت مند غذا کا استعمال بڑھ رہا ہے جبکہ سگریٹ نوشی بھی ذیابیطس کے خطرے میں اضافے کا سبب بنتی ہے‘۔

اسلام آباد میں واقع پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائینسز یعنی پمز میں پروفیسر آف میڈیسن ڈاکٹر جمال ظفر کہتے ہیں کہ پاکستان میں صورت حال زیادہ سنگین ہے۔

انھوں نے کہا کہ دو سال پہلے انھوں نے راولپنڈی کے ایک علاقے میں سروے کیا جس سے یہ پتہ چلا ہے کہ اس علاقے میں بارہ سال سے زیادہ عمر کے چودہ فیصد افراد ذیابیطس کے شکار ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اگر اس کی بنیاد پر نتیجہ اخذ کیا جائے تو پھر پاکستان بھر میں ایک کروڑ سے ایک کروڑ تیس لاکھ افراد ذیابیطس سے متاثر ہیں۔

ڈاکٹر خضر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سرکاری سطح پر ذیابیطس کی روک تھام کی خاطر اقدامات کیے جارہے ہیں۔

انھوں نے کہا بنیادی صحت کے مراکز اور اسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بہتر تشخیص کی بھی کوششیں کی جارہی ہیں۔

ڈاکٹر خضر کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ اس کی اس بیماری سے بچنے کے لیے آگاہی مہم بھی جارہی ہے۔ ان اقدامات کے اچھے نتائج نکلیں گے اور اگر یہ پروگرام ترجیحی بنیادوں پر جاری رہے تو پاکستان اس بیماری کا بوجھ کم کرسکتا ہے۔

لیکن پمز میں پروفیسر آف میڈیسن ڈاکٹر جمال ظفر کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ذیابیطس پر قابو پانے کے لیے ایک لمبا سفر طے کرنا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس بیماری پر قابو پانے کے لیے حکومت سطح پر وسیع پیمانے پر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔انھوں نے کہا کہ علاج معالجے کے ساتھ ساتھ حکومت کو قانون سازی کرنا پڑے گی جس کے ذریعے فاسٹ فوڈ فروخت کرنے والوں کو پابند کیا جانا چاہیے کہ خوراک پر واضح طور پر درج کریں کہ اس میں کیلوریز کی کتنی مقدار ہے۔

ڈاکٹر جمال کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ لوگوں کی واک یا چہل قدمی کے لیے حکومت کو زیادہ سے زیادہ پارک بنانے چاہئیں اور انھیں سائیکلینگ کی طرف راغب کیا جانا چاہیے جس کے لیے انھیں سہولیات بھی فراہم کی جائیں۔

انٹرنیشنل ڈائیبٹیس فیڈریشن کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں چھتیس کروڑ سے زیادہ افراد ذیابیطس سے متاثر ہیں جبکہ ہر سال چھیالیس لاکھ لوگ اس مرض کی وجہ سے مرتے ہیں۔

فیڈریشن کا کہنا ہے کہ سنہ دو ہزار گیارہ میں ہر سات سیکنڈ میں اس بیماری کی وجہ سے ایک شخص مرتا ہے اور اس بیماری کے علاج کے لیے چار سو پینسٹھ ارب ڈالر سالانہ خرچ کیے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں