’سیاسی جماعتیں مجرموں کو صفوں سے نکالیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption سپریم کورٹ نے کراچی میں امن و امان کے حوالے سے حکومت بیس سفارشات کی تھیں

سندھ حکومت نے تمام سرگرم سیاسی جماعتوں کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں انہیں یہ مشورہ دیا جائے گا کہ وہ اپنی صفوں میں سے جرائم پیشہ افراد کو نکال دیں اور ان کی تفصیلات سے آگاہ کریں۔

صوبائی وزیر قانون ایاز سومرو نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس مجوزہ خط کا ڈرافٹ تیار کرلیاگیا ہے جو منظوری کے بعد سیاسی جماعتوں کو بھیج دیا جائے گا۔

کراچی میں امن امان پر سپریم کورٹ کے مقدمے کے فیصلے کے حوالے سے صوبائی حکومت کی جانب سے پیر کو اجلاس منعقد کیا گیا ہے جس میں محکمہ قانون، داخلہ اور پولیس حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کے بعد وزیر قانون ایاز سومرو نے صحافیوں کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت ایسے بیس نکات ہیں جن پر صوبائی حکومت کو عملد رآمد کرنا ہے، جن میں سے بعض ایسے ہیں جن پر عملدر آمد ہوچکا ہے، جن میں بدامنی پر ضابطہ، ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ملزمان کی گرفتاری، لواحقین کو معاوضے کی ادائیگی اور اجمل پہاڑی پر دائر مقدمات کی عدالتوں میں پیروی جیسے نکتے شامل ہیں۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں اجمل پہاڑی کے مشترکہ تفتیشی ٹیم کو دیئے گئے اقبالی بیان کا حوالہ دیا تھا اور حیرت کا اظہار کیا تھا کہ وفاقی یا صوبائی حکومت نے اس بیان پر کسی بھی قسم کی کارروائی نہیں کی اور اُس تنظیم یا جماعت کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی جس کے ساتھ ملزم اجمل پہاڑی کا تعلق تھا۔

دوسری جانب صوبائی حکومت نے سندھ ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس قربان علوی کو مقرر کیا ہے، جو اس بات کا تعین کریں گے کہ ہلاک ہونے والے شہریوں میں سے کن کی ہلاکت ٹارگٹ کلنگ کے زمرے میں آتی ہے، جس کی بنیاد پر حکومت معاوضہ ادا کرے گی۔

سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کے فیصلے میں ایک نکتہ گواہوں کو تحفظ فراہم کرنے کے حوالے سے بھی شامل ہے۔ صوبائی وزیر قانون نے بتایا کہ گواہوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے بل کا مسودہ تیار کرلیا گیا ہے جسے صوبائی اسمبلی میں بحث کےلیے پیش کیا جائےگا۔

صوبائی حکومت نے عدالت کے فیصلے کی روشنی میں کراچی میں حلقہ بندیوں کا بھی جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ صوبائی وزیر قانون ایاز سومرو نے صحافیوں کو بتایا کہ اس سلسلے میں قومی ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی یعنی نادرا سےمدد لی جا رہی ہے۔ ووٹر لسٹوں کی نظر ثانی کے ساتھ حلقہ بندیوں کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

یاد رہے کہ جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں کراچی کی حلقہ بندیوں میں تبدیلی کی گئی تھی، جس سے سیاسی منظر نامے میں تبدیلی ہوئی تھی۔