آفاق احمد کو گرفتار نہ کیا جائے: عدالت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایم کیو ایم حقیقی کے سربراہ آفاق احمد کو کئی مقدمات کا سامنا ہے

پاکستان میں سندھ ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد کو واٹر بورڈ کے ملازم خالد حسین کے اغواء کے مقدمے میں گرفتار نہ کیا جائے۔

جسٹس مقبول باقر کی عدالت میں آفاق احمد کی ضمانت کی درخواست پر منگل کو پراسیکیوٹر جنرل سندھ شہادت اعوان اور خالد حسین کے وکیل نے اپنے دلائل مکمل کرلیے، جس کے بعد عدالت نے ضمانت کی درخواست نمٹا دی۔

پراسیکیوٹر جنرل شہادت اعوان نے عدالت کو بتایا کہ خالد حسین کے اغواء کے چالان کے کالم ٹو ( قابل گرفت شواہد کی عدم دستیابی) میں آفاق احمد کا نام شامل ہے اور یہ چالان مجسٹریٹ قبول کرچکے ہیں، اس مقدمے میں انہیں گرفتار نہیں کیا جاسکتا ہے لہذٰا ضمانت کی درخواست غیر مؤٰثر ہوگئی ہے۔

کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا کہ آفاق احمد نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ کئی بار ان کا نام کالم ٹو میں رکھا گیا مگر جب ضمانت ہوتی ہے اور ریلیز آرڈر جاری ہوتا ہے تو پولیس نام چالان میں شامل کردیتی ہے۔

آفاق احمد کے دلائل سننے کے بعد جسٹس مقبول باقر نے ہدایت کی کہ خالد حسین کے اغواء کے مقدمے میں آفاق احمد کو گرفتار نہ کیا جائے۔ اگر پولیس کو اس مقدمے میں ان کے خلاف شواہد ملیں تو پہلے عدالت کو آگاہ کیا جائے۔

دوسری جانب ایم کیو ایم حقیقی کے مرکز بیت الحمزہ پر حملے اور دو کارکنوں کے قتل کا مقدمہ متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین اور دیگر رہنماؤں کے خلاف درج کرنے کے لیے دائر درخواست کی سماعت جسٹس گلزار احمد کی عدالت میں ہوئی۔

عدالت نے سندھ حکومت اور دیگر فریقین کو انیس نومبر کے لیے نوٹس جاری کردیے۔