’من پسند وزارت نہ ملنے پر پارٹی چھوڑی‘

قمرالزمان کائرہ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حکومت ہر اُس نشست پر انتخاب کروائے گی جہاں سے لوگ مستعفی ہوں گے:قمرالزمان کائرہ

پاکستان کی حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے من پسند وزارت نہ ملنے پر پارٹی چھوڑی۔

منگل کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات قمر زمان کائرہ نے کہا کہ شاہ محمود قریشی نے ذاتی مفاد کو پارٹی کے مفاد پر ترجیح دی۔

اُنہوں نے کہا کہ اگر سابق وزیر خارجہ کو پارٹی کی پالیسوں سے اختلافات تھے تو اُنہوں نے اس کا اظہار اُس وقت کیوں نہیں کیا جب وہ وزیر خارجہ کے عہدے پر تعینات تھے۔

شاہ محمود قریشی نے پیر کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا اور یہ کہہ کر اُنہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کو خیر باد کہہ دیا تھا کہ یہ جماعت بینظیر بھٹو کی پارٹی نہیں بلکہ زرداری لیگ بن چکی ہے۔

پیپلز پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات کا کہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی کی شناخت پیپلز پارٹی کی وجہ سے تھی وہ پارٹی کے لیے شناخت نہیں تھے۔

اُنہوں نے کہا کہ حکومت سابق وزیر خارجہ کی قومی اسمبلی کی خالی ہونے اولی نشست پر ضمنی انتخابات کروائے گی۔

قمر زمان کائرہ نے قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے ارکان سے طرف سے ممکنہ استعفوں کے بارے میں کہا کہ حکومت ہر اُس نشست پر انتخاب کروائے گی جہاں سے لوگ مستعفی ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پیپلز پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ ضیاء الحق کی باقیات ہیں: شاہ محمود قریشی

اُنہوں نے کہا کہ اس طرح الزامات اُس وقت بھی لوگوں نے پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو پر بھی لگائے جب اُن میں جنرل ضیاء الحق کے دور میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ سابق وزیر خارجہ اُسی وقت ہی پارٹی چھوڑ چکے تھے جب اُنہوں نے پارٹی کے خلاف تقاریر اور پریس کانفرنس کرنا شروع کر دی تھیں۔

اُنہوں نے کہا کہ شاہ محمود قریشی پارٹی کی موجودہ قیادت پر الزامات لگا کر شائد پارٹی کے کارکنوں کی ہمدردیاں حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن پارٹی کے کارکن صرف اُن کے ساتھ ہوں گے جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو اور بینظر بھٹو کا ساتھ نبھایا۔

اس سے پہلے سابق وزیر خارجہ نے ملتان میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا جنہوں نے اُنہیں سابق فوجی آمر ضیاء الحق کی باقیات قرار دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ ضیاء الحق کی کابینہ میں موجودہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی تھے جبکہ وہ اُس کابینہ کا حصہ نہیں تھے۔

اسی بارے میں