گھوٹکی جلسہ: سندھ میں پنجاب کے پیر کی کرامات؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

صوبہ سندھ میں گھوٹکی کھوئے کے پیڑوں اور ڈاکوؤں کی وجہ سے مشہور رہا ہے جبکہ پاکستان میں اس کی وجہ شہرت کفیل بھائی اور ریل گاڑیوں کے بڑے حادثات رہی ہے۔ لیکن اب کی بار ملکی سطح پر گھوٹکی کی ایک اور وجہ شہرت بنتی نظر آرہی ہے اور وہ ہے مخدوم شاہ محمود قریشی کا جلسہ۔

پاکستان پیپلز پارٹی سے اٹھارہ برس کی سیاسی رفاقت ختم کرکے سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے نئے سیاسی سفر کا آغاز اپنے آبائی شہر ملتان کے بجائے گھوٹکی سے شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے گھوٹکی میں ستائیس نومبر کو اپنے جلسے کی تیاریاں شروع کردی ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ یہ جلسہ ان کے کیریئر کا بڑے سے بڑا جلسہ ثابت ہو۔

جلسے کی کامیابی کے لیے انہوں نے جہاں پیپلز پارٹی مخالف قوتوں سے رابطے کیے ہیں وہاں مہر اور چاچڑ قبیلوں کے سرداروں اور اس ضلع کی ماضی کی ایک بڑی گدی ‘بھرچونڈی شریف’ کے تمام پِیروں سے بھی رابطے کیے ہیں۔ جس میں پیپلز پارٹی کے موجودہ رکن قومی اسمبلی میاں عبدالحق المعرف میاں مٹھو بھی شامل ہیں۔ جبکہ ضلع گھوٹکی کے مقامی پِیروں اور ضلعے کے ایک اور بڑے قبیلے لوند کے سیاسی سربراہ کی خدمات حاصل کرنے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔

گھوٹکی کے اس جلسے کی کامیابی کے لیے ملتان کے ایک بڑے پیر مانے جانے والے شاہ محمود قریشی نے اپنی ’کرامات‘ کا سہارا بھی لیا ہے اور ان کرامات کی وجہ سے ’خفیہ فرشتے‘ بھی ان کی مدد کے لیے کافی سرگرم ہیں۔ اور ضلع بھر کے سرداروں اور وڈیروں کو خرچے کی پرواہ کیے بنا اپنے بندے لانے کی فرمائشیں کی جا رہی ہیں۔ جبکہ قریشی صاحب اپنی پرانی سیاسی رفاقتوں پیپلز پارٹی محالف مشترکہ مشن کی بنا پر ممتاز بھٹو اور غنویٰ بھٹو کی بھی خدمات حاصل کرسکتے ہیں۔

ادھر پاکستان پیپلز پارٹی کے کرتا دھرتا قریشی صاحب کے جلسے کو ناکام کرنے کے لیے اپنی مبینہ کوششیں کر رہے ہیں۔ بعض مقامی لوگوں کے مطابق اس سلسلے میں سندھ حکومت کے علاوہ سید خورشید احمد شاہ اور اسلام الدین شیخ کو خصوصی ٹاسک سونپا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی بعض انتہائی سینئر شخصیات بھی مقامی سرداروں، وڈیروں اور پیروں سے رابطے میں ہیں۔

شاہ محمود قریشی کے بعض حامیوں کا خیال ہے کہ حکومتی رکاوٹوں کے باوجود ان کا جلسہ کامیاب ہوگا کیونکہ بڑی تعداد میں لوگ پنجاب سے بھی شاہ جی کے ساتھ آئیں گے کیونکہ گھوٹکی پنجاب کا سرحدی ضلع ہے جہاں ان کی آمد قدرِ آسان ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق گھوٹکی میں شاہ محمود قریشی کی جانب سے جلسہ کرنے کا بظاہر مقصد تو اس ضلع میں ان کے مریدوں کی تعداد سندھ کے دیگر علاقوں کی نسبت زیادہ ہے اور اس ضلع میں بیشتر ان کے مرید چاچڑ قبیلے سے ہیں۔ جبکہ مہر، لنجار اور کچھ دیگر قبائل کے لوگ بھی ان کے مرید ہیں۔

سیاسی اعتبار سے گھوٹکی میں جلسہ کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ شاہ محمود قریشی صاحب نے جس پارٹی سے علیحدگی اختیار کی ہے اس کا صدر دفتر سندھ میں ہے اور وہ سندھ کے ہی کسی شہر میں وہ بڑا جلسہ کرکے یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ سندھ ان کا بھی گڑھ ہے۔ جبکہ ملتان میں وہ فی الوقت طاقت کا مظاہرہ کرنے سے شاید اس لیے بھی کتراتے ہوں کہ وہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا بھی آبائی شہر ہے۔

لیکن مقامی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے بعض مبصرین کہتے ہیں کہ گھوٹکی میں شاہ محمود قریشی اپنے مریدوں اور’فرشتوں‘ کی مدد کی وجہ سے ایک قابل ذکر حد تک بڑا جلسہ تو کرسکتے ہیں لیکن ووٹ اس جلسے کے شرکاء کی تعداد کے ایک چوتھائی حصے کے برابر بھی شاید ہی لے سکیں۔

جس کی ایک اہم وجہ ان کے بقول مقامی سیاسی حالات ہیں۔ کیونکہ مقامی طور پر تھانے، کچہری اور پٹواری کے کاموں کے لیے ان کے مریدوں کا انحصار مقامی سیاستدانوں پر ہوتا ہے اس لیے ان کے زیادہ تر مرید شاید ووٹ انہیں یا ان کے کہنے پر نہ دے پائیں کیونکہ جلسہ کامیاب بنانے والے سرداروں اور وڈیروں کے بھی اپنے اپنے سیاسی مفادات ہیں۔

بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ شاہ محمود قریشی کی سندھ میں سیاسی اور پیری مریدی کی سرگرمیوں پر سندھ کے دو بڑے گدی نشینوں پیر پگاڑا اور مخدوم امین فہیم کو بھی شاید اعتراض ہو۔ کیونکہ ’سندھ میں پنجاب کے پیر کی کرامات‘ سے کہیں ان کی روحانی جماعتیں متاثر نہ ہوں۔

بھر حال صورتحال جو بھی ہو لیکن بظاہر یہ ہوتا نظر آ رہا ہے کہ شاہ محمود قریشی گھوٹکی جسلے کی بنا پر اپنی ’سیاسی مارکیٹنگ‘ کرکے فی الوقت اپنے سیاسی مستقبل کا اچھا بھاؤ لگوانے میں کامیاب تو ہوسکتے ہیں۔ لیکن اپنے پائیدار سیاسی کردار کے تعین کے لیے انہیں اب بھی بہت زیادہ محنت کرنی پڑے گی کیونکہ وہ عمران خان کے ساتھ جائیں یا میاں نواز شریف کے ساتھ ’پرسنلٹی کلیش‘ تو ہر جگہ ہوگا۔

اسی بارے میں