سکولوں کی تباہی، 75 فیصد لڑکیوں کے

پشاور سکول تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’ضلع پشاور میں پچھلے دو برسوں کے دوران چالیس کے قریب سکول شدت پسندوں کے حملوں کا نشانہ بنے ہیں‘

شدت پسندی سے متاثرہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں تو گزشتہ پانچ چھ برسوں سے سرکاری سکول عسکریت پسندوں کے نشانے پر ہیں لیکن کچھ عرصے سے ان حملوں کا دائرہ اب خیبر پختونخوا کے شہری علاقوں کی طرف بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

کچھ عرصے سے ان واقعات میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے اور بالخصوص شہری علاقوں میں جہاں حکومت کی عمل داری بھی مکمل طور پر قائم ہے وہاں اس قسم کے واقعات نے لوگوں کو یقینی طور پر سخت تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

خیبر پختونخوا کے چوبیس اضلاع میں بہت کم ایسے علاقے ہوں گے جہاں شدت پسندوں نے سکولوں کو نشانہ نہ بنایا ہوا۔ تاہم ہزارہ ڈویژن ایک واحد علاقہ ہے جہاں عسکریت پسندی کے دیگر واقعات تو ہوتے رہے ہیں لیکن سکولوں پر حملوں کے واقعات کم ہی دیکھنے میں آئے ہیں۔

گزشتہ ہفتے نوشہرہ اور صوابی کے اضلاع میں ایک ہی رات میں دو سرکاری سکول شدت پسندوں کے حملے میں تباہ کردیے گئے۔ یہ دونوں واقعات شہری علاقوں میں پیش آئے۔ اس سے پہلے پشاور کے کچھ مضافاتی علاقوں میں بھی سرکاری سکولوں کو بم دھماکوں میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

ایلیمنٹری اینڈ سکینڈری ایجوکیشن پشاور کے ڈسٹرکٹ آفیسر افتخار احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ضلع پشاور میں پچھلے دو سالوں کے دوران چالیس کے قریب سکول شدت پسندوں کے حملوں میں نشانہ بنے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان میں اٹھائیس سکول مکمل طور پر جبکہ بارہ سکول جزوی طورپر تباہ ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق ان تباہ ہونے والے سکولوں میں زیادہ تر یعنی پچھتر فیصد سکول لڑکیوں کی ہیں جبکہ دیگر لڑکوں کے ہیں۔ ایجوکیشن افسر کا کہنا تھا کہ ان میں دو تین سکول صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت دوبارہ تعمیر کیے گئے ہیں جبکہ دیگر بدستور تباہ حالت میں موجود ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ہر سرکاری سکول میں ایک چوکیدار موجود ہوتا ہے جبکہ اس کے علاوہ محکمہ تعلیم کے پاس سکولوں کو سکیورٹی فراہم کرنے کا اور کوئی طریقہ موجود نہیں۔

خیبر پختونخوا حکومت کا دعویٰ ہے کہ صوبہ کے بیشتر اضلاع میں حکومت کی عمل داری مکمل طورپر بحال کردی گئی ہے۔ تاہم اس کے باوجود بھی ان حملوں میں کمی واقع نہیں ہوسکی۔ پشاور میں ایسے علاقوں میں بھی سکول نشانہ بنے ہیں جو شہر کے اندر واقع ہے تاہم حکومت ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ان میں بعض حملے دن دہاڑے بھی ہوچکے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں وادی سوات ایک ایسا علاقہ ہے جہاں سب سے پہلے سکولوں پر حملوں کا آغاز ہوا اور پھر ایک ایسا وقت بھی آیا کہ یہ حملے اپنے انتہا کو پہنچے۔ سوات اور آس پاس کے اضلاع بونیر، شانگلہ، دیر اپر اور دیر لوئر میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک تقریباً پانچ سو کے قریب سکول شدت پسندوں کی کارروائیوں میں نشانہ بنے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سوات میں عسکریت پسند کمانڈر مولانا فضل اللہ نے لڑکیوں کے سکول جانے پر بھی پابندی بھی لگائی تھی۔

تاہم پچھلے دو سالوں سے سوات میں طالبان کے خاتمے کے بعد وہاں سکولوں پر حملے کا کوئی واقعہ نہیں ہوا ہے۔

اس طرح قبائلی علاقوں میں بھی سرکاری سکول اور عمارات بدستور شدت پسندوں کے نشانے پر ہے۔ پہلے فاٹا میں جب سکولوں پر حملے ہوتے تھے تو حکام یہ دلیل دیتے تھے کہ اس علاقے میں حکومتی رٹ نہیں ہے۔ لیکن اب تو حکومت یہ دعویٰ بھی کرتی ہے کہ فاٹا کے کچھ علاقے شدت پسند تنظیموں سے صاف کرکے ان کا خاتمہ کردیا گیا ہے۔ لیکن ان تمام تر دعووں کے باوجود تعلیمی اداراوں پر حملے نہیں روک سکے۔

اسی بارے میں