ریکوڈک منصوبہ: بلوچستان حکومت کی تحویل میں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حکومت بلوچستان نے اپنے ہی وسائل سے اس منصوبے پر پیش رفت کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے

حکومت بلوچستان نے چاغی کے علاقے میں سونے اور تانبے کے بڑے ذخائر ریکوڈک کا منصوبہ خود چلانے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اس مقصد کے لیے ایک غیرملکی کمپنی کو دیا گیا لائسنس منسوخ کردیا ہے۔

حکومت بلوچستان نےحال ہی میں ضلع چاغی میں سونے اور تانبے ریکوڈک کے منصوبے کو چلانے کے لیے ایک غیر ملکی ٹیھتیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی) کو دیا گیا لائسنس منسوخ کردیا ہے۔

لائسنس کی منسوخی کی وجوہات بتاتے ہوئے صوبائی سیکرٹری معدنیات مشتاق رئیسانی نےکہا کہ ٹی سی سی کو سونا نکالنے کے لیے جتنے علاقہ متخص کیا گیا تھا اس نے فیزیبلٹی رپورٹ میں تمام علاقے کو شامل نہیں کیا اور محض ایک قلیل رقبہ کی رپورٹ بنا کر حکومت کو پیش کی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان کے معدنی وسائل سے متعلق سنہ دو ہزار دو کے قوانین کے تحت صوبائی حکومت کواختیارحاصل ہے کہ جو کمپنی شرائط پر پورا نہیں اترتی اس کا لائسنس منسوخ کیا جاسکتا ہے۔

سیکرٹری معدنیات نے مزید کہا کہ اب حکومت بلوچستان نے اپنے ہی وسائل سے اس منصوبے پر پیش رفت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ٹیتھیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی) نے حکومت بلوچستان کی طرف سے ریکوڈک کے تانبے اور سونے کے قدرتی ذخائر پر کام کرنے کے لیے کان کنی کے لیے دی جانے والی درخواست کے مسترد کیے جانے کے فیصلے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹی سی سی نے اگست دوہزار دس میں فزیبلٹی اسٹڈی جمع کرانے کے بعد فروری سنہ دو ہزار دس میں EL5 ایریا کے لیے کان کنی کے لائسنس کے اجراء کے لیے درخواست جمع کرائی تھی۔

کمپنی کے بقول بلوچستان کی صوبائی حکومت نے مسئلے کے حل کے لیے ملاقات کی متعدد درخواستوں کا خاطر خواہ جواب نہیں دیا جبکہ ٹی سی سی نے مسئلے کے حل کیلیے مذاکرات کی راہ اپنانے کو ترجیح دی۔

کوئٹہ سے بی بی سی نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق بلوچستان معدنی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے۔ سوئی اور ڈیرہ بگٹی سے نکلنے والی گیس سےگزشتہ پچاس سال سے ملکی ضروریات کو پورا کیا جارہا ہے لیکن بد قسمتی سے بلوچستان کے تیس اضلاع میں سے اب تک صرف پانچ اضلاع کو گیس کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔

اسلام آباد کے اس منفی رویے کے باعث بلوچستان کی زیادہ تر قوم پرست جماعتیں ایشیاء کے سب سے بڑے سونے اور تانبے کے ریکوڈک کے منصوبے کے بارے میں خدشات کا اظہار کررہی ہیں۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات آغاحسن بلوچ نےصوبائی حکومت کی جانب سے منصوبے کوچلانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اسمبلی میں اس وقت عوام کے حقیقی نمائندے نہیں بیھٹے ہوئے ہیں کیونکہ انتخابات کے وقت قوم پرست جماعتوں نے بائیکاٹ کیا تھا اور جولوگ اقتدار میں ہیں وہ خود اس منصوبے کو بدعنوانی کا ذریعہ بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کوچلانے کاحق بلوچستان کےعوام کو ہونا چاہیے۔

بعض ماہرین کے مطابق اربوں ڈالر کے سونے اور تانبے ریکوڈک کے منصوبے پر پیش رفت کرنا موجودہ صوبائی حکومت کے بس میں نہیں ہے۔

اسی بارے میں